عوامی مینڈیٹ چھینے والوں کیخلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے، اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
غیرجانبدارالیکشن کمیشن اورفری اینڈ فیٔرالیکشن کروائے جائیں، حکومت سندھ عوام کوسہولیات دینے میں ناکام ،26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی ختم کر دی
ججوں کے جبری تبادلوں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کی شدید مذمت، عمران اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ، آل پارٹیز کانفرنس کاجاری اعلامیہ
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں غیرجانب دار الیکشن کمیشن اور صاف و شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے۔کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں اور کہا ہے کہ غیرجانب دار الیکشن کمیشن اور فری اینڈ فیٔر الیکشن کروائے جائیں۔مطالبہ کیا گیا کہ عوامی مینڈیٹ چھینے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے، حکومت سندھ عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہوگئی ہے، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی ختم کر دی گئی ہے۔اعلامیے میں اپوزیشن نے ججوں کے جبری تبادلوں کی مذمت کی، اسی طرح عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی ہٹائی جائے۔کانفرنس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی اور صحافیوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور صحافی مطیع اللہ جان پر جھوٹی ایف آئی آر، معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے، ملٹی نیشنل ادارے بند ہونے کو ہیں، سیاسی لوگوں کی جبری گم شدگیوں کو بند کیا جائے، خیبرپختونخوا میں منعقد جرگے پر عمل کیا جائے۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے فوجی آپریشن کو روکا جائے اور آئین کے تحت معدنیات صوبوں کی ملکیت ہے ، پانی کی تقسیم 91 کارڈ کے مطابق کی جائے۔پڑوسی ممالک کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران پر بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، حکومت ممکنہ بحرانوں کے مد نظر رکھتے ہوئے ہمسائے ممالک کا اجلاس بلائے اور غزہ کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام یوم سیاہ منایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی مذمت کی کا مطالبہ گیا کہ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔