data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ نے ایک بار پھر غیر قانونی، غیر اخلاقی اور سفاکانہ اقدام کرتے ہوئے 100 سے زائد حاضر سروس ملازمین کی تنخواہیں روک دی ہیں۔ اس سے قبل بھی 80 سے زائد ملازمین کی تنخواہیں بند کی جا چکی ہیں، جو انتظامیہ کی مسلسل مزدور دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ انتظامیہ نے اسٹیل ٹاؤن شپ میں رہائش پذیر مکینوں کو جانب سے دی گئی الاٹمنٹ شیورٹی کو جواز بنا کر حاضر سروس ملازمین کو سزا دینا شروع کر دی ہے، حالانکہ تمام متاثرہ ملازمین باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہیں روکنا صریحاً غیر قانونی، غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی پاسلو یونین بھرپور مذمت کرتی ہے۔ صدر پاسلو یونین عاصم بھٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ اپنی نااہلی کا بوجھ ملازمین پر ڈال رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ جنرل سیکرٹری پاسلو یونین علی حیدر گبول نے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ ملازمین کی تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں اور اس ظالمانہ اقدام کو فی الفور واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین پہلے ہی 2011 کی تنخواہ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، تمام سہولیات سے محروم ملازمین کی تنخواہیں روکنا انتہائی سفاکانہ عمل ہے۔ اسٹیل ٹاؤن شپ آفس گزشتہ کئی ماہ سے بند ہے، جبکہ جن مکینوں کو شیورٹی دی گئی وہ زیادہ تر سابقہ ریٹائرڈ ملازمین ہیں۔ قانون کے مطابق شیورٹی کے طور پر جمع کروایا جانے والا اسٹامپ پیپر چھ ماہ بعد خود بخود منسوخ تصور کیا جاتا ہے، لیکن ٹاؤن شپ ڈپارٹمنٹ کی نااہلی اور مبینہ ملی بھگت کے باعث شیورٹی کی توسیع کے بغیر رہائش برقرار رکھی گئی۔ ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔ واضح رہے کہ مکان الاٹ کرنے یا منسوخ کرنے کا مکمل اختیار پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ کے پاس ہے۔ اگر کوئی مکین کرایہ یا یوٹیلیٹی بلز ادا نہیں کر رہا تو یہ انتظامیہ کی ناکامی ہے، جس کی سزا حاضر سروس ملازمین کو دینا صریح ظلم ہے۔ اس اقدام سے اسٹیل ٹاؤن شپ اور ملازمین میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ پاسلو یونین کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار، وزیر اعلیٰ سندھ اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان اسٹیل ملز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کریں اور متاثرہ ملازمین کی تنخواہیں بلا تاخیر جاری کروائیں۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملازمین کی تنخواہیں حاضر سروس ملازمین پاسلو یونین ٹاو ن شپ

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف