پاکستان کے بڑے شعبوں میں رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران بڑے شعبوں کی برآمدات گرگئیں۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تادسمبرغذائی اجناس کی برآمدات میں40.29 فیصد کمی ہوئی اور اس عرصے میں غذائی اجناس کی برآمدات کاحجم 2ارب36کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں حجم تقریباً 4 ارب ڈالر تھا۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ دستاویز کے مطابق جولائی تا دسمبرچاول کی برآمدات میں 49.
ادارہ شماریات نے بتایاکہ جولائی تا دسمبر ٹیکسٹائل برآمدات میں0.90 فیصداضافہ ہوا اور پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات کاحجم 9 ارب 16 کروڑ ڈالر رہا جبکہ جولائی تادسمبر ملکی پلاسٹک کے سامان کی برآمدات میں43.66فیصد کمی ہوئی۔
دستاویز کے مطابق جولائی تا دسمبر فارما سیوٹیکل کی برآمدات میں 28.67 فیصد اور ٹرانسپورٹ سامان کی برآمدات میں36.51 فیصد کمی ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی برا مدات میں فیصد کمی ہوئی
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔