گل پلازہ آتشزدگی: آگ پر 60 فیصد قابو، عمارت انتہائی مخدوش، مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ پر فائر بریگیڈ نے تقریباً 60 فیصد تک قابو پا لیا ہے، شدید گرمی، دھوئیں اور ناقص وینٹیلیشن کے باعث فائر فائٹرز تاحال عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق آگ بجھانے کا عمل انتہائی مشکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ریسکیو آپریشن احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔
چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گل پلازہ چاروں اطراف سے مکمل طور پر سیل عمارت ہے اور اس میں مناسب وینٹیلیشن سسٹم موجود نہیں، جس کی وجہ سے اندر شدید دھواں اور گرمی جمع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ کی شدت کے باعث شاپنگ مال کی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت مزید حصہ گرنے کا خدشہ موجود ہے۔
فائر حکام کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزانین فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں، جبکہ اوپری دو منزلوں میں تاحال آگ بھڑک رہی ہے۔ آگ کے باعث عمارت کا ایک حصہ منہدم بھی ہو چکا ہے، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو مزید محتاط بنا دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ آتشزدگی کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ پوری عمارت اس وقت مخدوش حالت میں ہے اور کسی بھی لمحے گر سکتی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جو ریسکیو آپریشن کے دوران اپنی جان کی بازی ہار گیا۔ امدادی ٹیموں کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ اب بھی کچھ افراد عمارت کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں، تاہم حالات کے باعث فوری رسائی ممکن نہیں۔
دوسری جانب امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی دلخراش ہے اور جماعتِ اسلامی جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامات کا فقدان شدید تشویش کا باعث ہے۔
منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے رات تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ اس موقع پر امیر ضلع اور الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم بھی ان کے ہمراہ موجود تھی، جو متاثرین کی مدد اور ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ تعاون میں مصروف ہے۔
حکام کے مطابق فائر بریگیڈ، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے بدستور موقع پر موجود ہیں اور کولنگ کے عمل کے بعد سرچ آپریشن شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کے مطابق کے باعث ہے اور
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف