گل پلازہ واقعے میں حکومت نے غفلت برتی، صدر انجمن تاجران سندھ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہے کہ گل پلازہ کے واقعے میں حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی اور متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ الزامات بھی انہی پر عائد کیے جا رہے ہیں۔
جاوید قریشی نے کہا کہ حکومت کی نااہلی واضح ہے کیونکہ 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ناکامی کا کھل کر اعتراف کرے۔
انہوں نے بتایا کہ دیکھ بھال کی مد میں وصول کی جانے والی رقم چوکیداری نظام، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی تاہم بعد میں وہاں دکانیں قائم کی گئیں، جبکہ اجازت صرف بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی جس میں وقت کے ساتھ توسیع ہوتی رہی۔
صدر انجمن تاجران سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ میں کی جانے والی تمام توسیع قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گل پلازہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔