گل پلازہ واقعے میں حکومت نے غفلت برتی، صدر انجمن تاجران سندھ کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہے کہ گل پلازہ کے واقعے میں حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی اور متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ الزامات بھی انہی پر عائد کیے جا رہے ہیں۔
جاوید قریشی نے کہا کہ حکومت کی نااہلی واضح ہے کیونکہ 34 گھنٹے گزرنے کے باوجود ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ناکامی کا کھل کر اعتراف کرے۔
انہوں نے بتایا کہ دیکھ بھال کی مد میں وصول کی جانے والی رقم چوکیداری نظام، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی تاہم بعد میں وہاں دکانیں قائم کی گئیں، جبکہ اجازت صرف بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی جس میں وقت کے ساتھ توسیع ہوتی رہی۔
صدر انجمن تاجران سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ میں کی جانے والی تمام توسیع قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔