پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان طبی تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے انڈونیشیا کا دورہ کیا جس میں طب سے متعلق تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال جکارتہ پہنچے جہاں پاکستان کے سفیر برائے انڈونیشیا نے وزیر صحت کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی معروف ویکسین ساز کمپنی بایئو فارما کے صدر ڈائریکٹر شادق اکاسیا سے بھی ملاقات ہوئی۔
وفاقی حکومت کا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ
ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ویکسین کی تیاری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر صحت مصطفی کمال نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ویکسین کی تیاری کے شعبے میں باہمی تعاون کی اہمیت پر اور ویکسین کی مقامی پیداوار میں خودکفالت کی اہمیت پر زور دیا۔
بائیو فارما اینڈ این آئی ایچ پاکستان کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی استعداد کار کو بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی: پی ڈی ایم اے
مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان ویکسین کی تیاری کے شعبے میں انڈونیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں اپنی ویکسین پروڈکشن سہولت قائم کرنے کے لیے انڈونیشیا کے ساتھ قریبی اور عملی تعاون کا خواہاں ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انڈونیشیا کے کے درمیان ویکسین کی
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔