ٹرمپ چند دنوں میں خامنہ ای کو نشانہ بنا سکتے ہیں، سابق امریکی سفیر کا تہلکہ خیز دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسرائیل میں امریکا کے سابق سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈان شپیرو نے ایک اسرائیلی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کی موجودہ قیادت کو ہدف بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈان شپیرو سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں ہونے والے تشدد، مظاہروں اور ہلاکتوں کا الزام امریکا پر عائد کیا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے فسادات کے پیچھے کون؟ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر کا چونکا دینے والا انکشاف
ایران کے حالیہ فسادات میں ٹرمپ ذاتی طور پر ملوث ہیں؛ خامنہ ای
ایران کی جانب پیش قدمی؟ امریکا نے طیارہ بردار جنگی بیڑا روانہ کردیا
سابق امریکی سفیر نے آیت اللہ خامنہ ای کی عمر اور صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت 86 برس کے ہو چکے ہیں اور ایران کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
Trump's comments to @politico on needing new leadership in Iran, and Khamenei's mindless baiting of Trump on X, lead me to believe that Trump is going to try to kill the Supreme Leader this week.
There will soon be a US carrier strike group in the Middle East, making it easier… — Dan Shapiro (@DanielBShapiro) January 17, 2026
ڈان شپیرو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں مزید کہا کہ امریکا جلد مشرق وسطیٰ میں ایک بڑا بحری بیڑا تعینات کر سکتا ہے، جس سے ایران پر ممکنہ حملے اور کسی بھی جوابی کارروائی کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں مدد ملے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی فورسز کے خلاف مزید حملے کر سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈان شپیرو آیت اللہ خامنہ ای کہا کہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔