پروازوں کے حساس ڈیٹا کی حفاظت کیلیے ناسا کا جدید بلاک چین نظام
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ناسا نے ہوابازی کے شعبے میں ڈیٹا سیکورٹی کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کا عملی تجربہ کیا ہے، جس کا مقصد پروازوں سے متعلق حساس معلومات کو سائبر حملوں، چھیڑ چھاڑ اور تکنیکی مداخلت سے محفوظ رکھنا ہے۔
سائنسدانوں کی جانب سے اس جدید اقدام کو مستقبل کے فضائی نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو ہوابازی میں ڈیجیٹل تحفظ کے طریقۂ کار کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجربہ کیلیفورنیا میں واقع ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں کیا گیا، جہاں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈی سینٹرلائزڈ ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی جانچ کی گئی۔ اس تجربے میں اس بات کو پرکھا گیا کہ بلاک چین پر مبنی نظام طیاروں اور گراؤنڈ کنٹرول کے درمیان ہونے والے رابطے کو کس حد تک محفوظ اور مستند بنا سکتا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب سائبر خطرات میں اضافہ ہو رہا ہو۔
رپورٹ کے مطابق اس تجربے میں ترمیم شدہ Alta-X ڈرون استعمال کیا گیا، جسے کنٹرولڈ اور معمول کے موسمی حالات میں پرواز کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس ڈرون میں جدید جی پی ایس ماڈیول، ریڈیو ٹرانسمیٹر اور بلاک چین سے منسلک کمپیوٹر سسٹم نصب تھا، جو حقیقی وقت میں ڈیٹا کی ترسیل اور تصدیق کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام پرواز کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ناقابلِ ترمیم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ناسا کے ماہرین نے بتایا کہ بلاک چین روایتی ڈیٹا بیس کے برعکس ایک ایسا ڈی سینٹرلائزڈ نظام ہے جس میں معلومات مختلف نیٹ ورکس پر بیک وقت محفوظ ہوتی ہیں۔ اس طریقۂ کار کے تحت ڈیٹا میں ہونے والی ہر تبدیلی کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور اسے فوری طور پر تصدیق کے عمل سے گزارا جاتا ہے، جس سے کسی بھی غیر مجاز مداخلت یا ڈیٹا میں رد و بدل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس بلاک چین فریم ورک کے ذریعے ٹیلی میٹری ڈیٹا، فلائٹ پلانز اور آپریٹر رجسٹریشن جیسی حساس معلومات کو محفوظ انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ صرف مستند اور تصدیق شدہ صارفین کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جس سے سائبر دباؤ یا ہیکنگ کے خطرات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بلاک چین پر مبنی ڈی سینٹرلائزڈ انفرا اسٹرکچر مستقبل میں خودکار گاڑیوں، شہری فضائی ٹریفک اور بلند فضائی آپریشنز کے لیے بنیادی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ ٹیم نے مختلف فرضی سائبر حملوں کے دوران بھی نظام کو آزمایا، جہاں بلاک چین فریم ورک نے ڈیٹا کی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے مؤثر کارکردگی دکھائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔