اسلام آباد (صغیر چوہدری ) حکومت پاکستان کی جانب سال 2026 میں سرکاری تعطیلات کی فہرست سامنے آگئی ہے شیڈول کے مطابق قومی، مذہبی اور بینک تعطیلات سمیت مجموعی طور پر رواں سال تقریباً 17 سرکاری تعطیلات ہوں گی۔
سال 2026 کے شیڈول کا مقصد شہریوں، سرکاری و نجی اداروں اور کاروباری طبقے کو پیشگی منصوبہ بندی میں آسانی ہو گئی ہے۔
جاری کردہ فہرست کے تحت سال 2026 میں ملک بھر میں قومی، مذہبی اور بینک تعطیلات کے سرکاری شیڈول کے مطابق اہم تعطیلات کی تفصیلات درج ذیل ہیں
5 فروری (جمعرات): یومِ کشمیر
21 تا 23 مارچ (ہفتہ تا پیر): عیدالفطر
23 مارچ (پیر): یومِ پاکستان
یکم مئی (جمعہ): یومِ مزدور
27 تا 28 مئی: عیدالاضحیٰ
28 مئی (جمعرات): یومِ تکبیر
25 تا 26 جون: عاشورہ (9 اور 10 محرم الحرام)
14 اگست (جمعہ): یومِ آزادی
25 اگست (منگل): عید میلاد النبی ﷺ
9 نومبر (پیر): یومِ اقبال
25 دسمبر (جمعہ): یومِ قائداعظمؒ اور کرسمس
26 دسمبر (ہفتہ): کرسمس کے بعد کی تعطیل (یہ صرف مسیحی ملازمین کے لیے ہیں)
حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی تعطیلات رویتِ ہلال سے مشروط ہوں گی، اس لیے ان کی تاریخوں میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ چاند نظر آنے کے بعد حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا۔
حکومت نے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ سفر اور چھٹیوں کے حتمی انتظامات متعلقہ تعطیلات سے قبل جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشنز کے مطابق ہی کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سال 2026

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا