ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ کار مزید شعبوں تک بڑھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایف بی آر نے چینی ، سگریٹ ، کھاد اور سیمنٹ کی صنعت میں کامیابی کے بعد ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ کار اسٹیل کی صنعت، فارماسیوٹیکلز ،مصالحہ جات، بسکٹ اور دیگر پیک شدہ مصنوعات سمیت مزید شعبوں تک دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے منفرد شناختی نشانات سے ایف بی آر اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں کامیاب ہوا۔
ریگولیٹری ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس چوری ، غیر قانونی اشیاء کی خریدوفروخت ، مصنوعات کی پیداوارکے درست ڈیٹا کی نشاندہی میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے قوانین پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرنے میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور حالیہ عرصے میں غیر قانونی تمباکو ، شوگر اور دیگر اشیاء کے خلاف ایف بی آر نے زبردست کامیابی حاصل کی، کئی شوگر ملوں کی پیداواری یونٹ کو ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر نہ لگانے پر سیل کیاگیا جب کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ایسے کروڑ وں روپے مالیت کے غیر قانونی سگریٹ کو پکڑ اگیا جن پیکٹ پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر نہیں تھی ۔
آج کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات
ریگولیٹری نظام سے وابستہ ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی ایس اب ایک ملک گیر الیکٹرانک مانیٹرنگ فریم ورک کی شکل اختیار کر چکا جو پیداواری مرحلے پر محفوظ، سلسلہ واراور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ یو آئی ایمز کی کی تنصیب کے ذریعے پیداوار کی مقدار پر حقیقی وقت میں نگرانی کوممکن بناتا ہے۔
یہ شناختی نشانات اس پر عملدرآمد کرانیوالے اداروں کو پوری سپلائی چین میں، فیکٹری فلور سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹ تک، اشیاء کی نگرانی کی سہولت فراہم کرتے ہیں جس سے قوانین کی پاسداری، دستاویزات اور آڈٹ کے عمل میں نمایاں بہتری آئی اور اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملی ۔
سابق ایم این اے مولانا محمد یوسف انتقال کرگئے
ماہرین کے مطابق جب مصنوعات قابلِ سراغ ہوں تو ٹیکس کی وصولی ممکن ہوتی ہے، مارکیٹ منصفانہ بنتی اور محصولات کا ضیاع منظم طریقے سے ختم ہو جاتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ایف بی ا ر کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔