قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے ہوگا، 16 نکاتی ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے 16 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پاکستان ریلویز سے متعلق ترامیم سمیت کئی اہم بلز اور توجہ دلاؤ نوٹسز شامل ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس شام پانچ بجے سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہو گا، ایجنڈے میں اسلام آباد میں غیر قانونی فرنیچر نمائشوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہے۔
ایوان میں اسلام آباد پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن ترمیمی بل اور پاکستان نیمز آف ایمبلینس ترمیمی بل پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کینابس پریوینشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل پر بھی بحث شامل ہے۔
نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس میں مزید 20 روزہ توسیع کے لیے قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ کے چیئرمین پلین بلوچ کی رپورٹس بھی ایوان میں پیش کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر برائے ریلویز ٹرانسفر آف ریلویز ترمیمی بل 2025 پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کو درپیش مشکلات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی اجلاس کا حصہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔