پی ایس ایل 11 میں بڑا انقلاب، ڈرافٹ سسٹم ختم، کھلاڑیوں کی سلیکشن آکشن کے ذریعے ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ کے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ایچ بی ایل پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں کھلاڑیوں کی سلیکشن روایتی ڈرافٹ سسٹم کے بجائے آکشن کے ذریعے کی جائے گی۔
پی سی بی کے مطابق آکشن سسٹم متعارف کرانے کا مقصد ٹیموں کو مزید متوازن بنانا اور کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق زیادہ مالی فائدہ فراہم کرنا ہے۔ نئے فارمیٹ کے تحت ہر فرنچائز آکشن سے قبل مجموعی طور پر چار کھلاڑی ریٹین کر سکے گی، تاہم شرط یہ ہوگی کہ ہر کیٹیگری سے زیادہ سے زیادہ ایک کھلاڑی کو برقرار رکھا جا سکے گا۔
انتظامی اصلاحات کے تحت نئے ایڈیشن میں مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ کے قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے۔ لیگ میں شامل ہونے والی دونوں نئی ٹیموں کو بھی آکشن سے قبل چار، چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ مسابقتی اسکواڈ تشکیل دے سکیں۔
اس کے علاوہ ہر فرنچائز کو ایک بین الاقوامی کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ متعلقہ کھلاڑی 2025 کے پی ایس ایل ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا، جبکہ اس سیزن میں پہلی بار فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں بھی میچز کھیلے جائیں گے، جو لیگ کی توسیع اور مقبولیت میں اضافے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔