شامی حکومت اور کرد فورسز کے درمیان جنگ بندی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
دمشق (ویب ڈیسک) شام کی حکومت اور کرد قیادت رکھنے والی تنظیم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔
شامی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف دریائے فرات کے مغرب میں موجود علاقوں سے اپنی فورسز واپس بلائے گی اور اس کے جنگجو شامی فوج میں ضم ہو جائیں گے۔
شامی صدر احمد الشرع نے اعلان کیا کہ حکومت تین اہم صوبوں الحسکہ، دیر الزور اور رقہ میں ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالے گی جو اب تک ایس ڈی ایف کے زیرِانتظام تھے، معاہدے کے بعد تمام سرحدی گزرگاہوں، تیل اور گیس کے میدانوں کا کنٹرول بھی دمشق کو منتقل ہو جائے گا۔
معاہدے کے مطابق داعش کے قیدیوں اور کیمپوں کی نگرانی کرنے والا ایس ڈی ایف کا انتظامی ڈھانچہ بھی شامی ریاست میں شامل کر دیا جائے گا جس کے بعد ان کی مکمل قانونی اور سکیورٹی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف مرکزی حکومت میں فوجی، سکیورٹی اور سول عہدوں کے لیے نام بھی تجویز کرے گی، غیر شامی کرد عناصر کو علاقے سے نکال دیا جائے گا تاکہ شام کی خودمختاری اور علاقائی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اعلان امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیرک سے دمشق میں ملاقات کے بعد کیا گیا، امریکی ایلچی نے جنگ بندی کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری داعش کے خلاف جدوجہد میں مدد دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس ڈی ایف معاہدے کے کے بعد
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔