چین پاکستان کا تاریخی دوست ہے، ملکر زراعت کے شعبے میں کام کررہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پاک چائنہ ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے، زراعت ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا ہے، چین پاکستان کا تاریخی دوست ہے، 2024 میں چین میں بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد کیا جہاں دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں نے ایم ایو یوز پر دستخط کیے، ان مفاہمتی یادداشتوں کے عملی اطلاق پر کام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: راوی کا پانی زراعت کے لیے قابل استعمال کیوں نہیں رہا؟ مصدق ملک نے وجہ بتادی
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان سے ایک ہزار طلبا کو زراعت کے شعبے میں کام کرنے کے لیے چینی اداروں میں بھیجا، مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان میں زراعت میں پیشرفت پر کام کریں گے۔ چین نے مصنوعی ذہانت، ایکسپورٹس اور ٹیکنالوجی میں بھرپور ترقی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین زراعت شہباز شریف وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین شہباز شریف کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔