سعودی عرب کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی جانب اہم قدم، تشہیر کے لیے خصوصی طیارہ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سعودی ایئرلائنز نے سعودی ٹورازم اتھارٹی کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت ایک خصوصی طیارہ متعارف کرایا ہے جس پر ’Saudi, Welcome to Arabia‘ کا ڈیزائن نمایاں ہے۔
اس اقدام کا مقصد مملکتِ سعودی عرب کو عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط بنانا ہے، یہ طیارہ ایک متحرک تشہیری ذریعہ کے طور پر کام کرے گا جو خالص سعودی مہمان نوازی کی عکاسی کرتے ہوئے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق دنیا بھر سے سیاحوں کو متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: نومبر 2025: سعودی عرب میں ثقافت، سیاحت، معیشت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا غیر معمولی مہینہ
سعودی ایئرلائنز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیا ڈیزائن رکھنے والا طیارہ کمپنی کے بین الاقوامی روٹس پر پرواز کرے گا اور سال بھر جاری رہنے والی تشہیری مہم کے تحت خوش آمدید کے پیغامات لے کر دنیا بھر میں سفر کرے گا۔
یہ مہم سعودی عرب میں تیزی سے فروغ پاتی سیاحت کو اجاگر کرنے کا حصہ ہے۔ سعودی ایئرلائنز اپنے عالمی نیٹ ورک کے ذریعے ان کوششوں میں کردار ادا کررہی ہے، جو 4 براعظموں میں 100 سے زیادہ مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ طیارہ سعودی عرب کی منفرد اور متنوع سیاحتی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
سعودی گروپ کے ڈائریکٹر جنرل انجینیئر ابراہیم العمر نے کہاکہ سعودی ٹورازم اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری اس بات کی بہترین مثال ہے کہ قومی اہداف پر ہم آہنگی کس طرح عملی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مشترکہ کوششوں کی کامیابی کا ثبوت ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو دنیا کے نمایاں سیاحتی ممالک میں شامل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ پیشرفت ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری، بہتر فضائی روابط اور ایسے سفری تجربات کی بدولت ممکن ہوئی ہے جو مملکت کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرتے اور عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔
سعودی ٹورازم اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ ممبر فہد حمیدالدین نے کہاکہ اس تعاون کے ذریعے جدید تشہیری ذرائع کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں خود سفر کا عمل ہی ایک متاثرکن تجربہ بن جاتا ہے جو ’روحِ سعودی عرب‘ کی ترجمانی کرتا ہے اور سیاحوں کو ایک مکمل اور مربوط سیاحتی تجربہ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ سعودی ایئرلائنز اور سعودی ٹورازم اتھارٹی کے درمیان یہ اسٹریٹجک شراکت داری متعدد منصوبوں پر مشتمل ہے، جن میں بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنا، فضائی روابط کو مضبوط بنانا اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اضافی پروازوں کا انتظام شامل ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: سیاحت و مہمان نوازی کے شعبے میں اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام کا آغاز
دونوں ادارے عالمی سطح کے ایونٹس میں بھی مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جس سے عالمی سیاحتی نقشے پر سعودی عرب کی حیثیت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خصوصی طیارہ متعارف سعودی عرب عالمی سیاحتی مرکز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خصوصی طیارہ متعارف عالمی سیاحتی مرکز وی نیوز سعودی ٹورازم اتھارٹی کے سعودی ایئرلائنز عالمی سیاحتی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔