8 فروری تک عمران خان سےتمام ملاقاتوں پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری ) اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان سے 8 فروری تک سے کسی بھی ملاقات کی اجازت نہیں نا کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور ملک گیر پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے پیشِ نظر لیا گیا ہے۔پارلیمنٹ میں ذرائع کا کہنا ہے کہ شٹر ڈاؤن، ہڑتال اور پہیہ جام ہی پی ٹی آئی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ سیکیورٹی اداروں نے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ 8 فروری کے احتجاج کے دوران پرتشدد صورتحال پیدا ہونے کا قوی امکان ہے، جس سے نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ حکومت کی مشکلات بھی بڑھ سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج اور اس کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں قائدِ حزب اختلاف کے رویے پر بھی سخت نظر رکھی جائے گی۔اگر محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ میں جارحانہ اور ریاست مخالف رویہ اپناتے ہیں تو حکومت نے فارمولا بی کے تحت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق کے میڈیا کے ذریعے بیان کو بھی پی ٹی آئی اور اپوزیشن لیڈر کے لیے واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی یا تشدد پر مبنی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔حالیہ صورتحال کے پیشِ نظر ملک بھر کی سیاسی فضا انتہائی کشیدہ اور نازک قرار دی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔