بنگلادیش کے بھارت نہ جانے کے مؤقف پر آئی سی سی کا حتمی فیصلہ 21 جنوری کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ میں بنگلادیش کی شرکت کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ 21 جنوری کو ہوگا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اس دن یہ طے کرے گی کہ بنگلادیشی ٹیم اپنے میچز کہاں کھیلے گی اور آیا وہ بھارت جائے گی یا نہیں۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق آئی سی سی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو حتمی تاریخ سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہفتے کے روز ڈھاکا میں آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان اہم اجلاس ہوا جس میں بنگلادیش نے ایک بار پھر بھارت نہ جانے کے اپنے مؤقف کو دہرایا۔
اجلاس کے دوران بی سی بی نے آئی سی سی کے وفد کے سامنے بھارت میں سیکیورٹی خدشات کا معاملہ اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں ٹیم کا بھارت جانا ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بنگلادیش ٹی20 ورلڈکپ کے گروپ سی میں شامل ہے اور اس کے تمام میچز بھارت میں شیڈول کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بنگلادیشی بورڈ نے بھارت میں ورلڈکپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
اب تمام نظریں 21 جنوری پر مرکوز ہیں جب آئی سی سی بنگلادیش کی شرکت اور میچز کے مقام سے متعلق حتمی فیصلہ سنائے گی جو ٹی20 ورلڈکپ کے شیڈول اور انتظامات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔