سرد موسم میں قوتِ مدافعت کیوں کمزور ہو جاتی ہے؟ وجوہات اور بچاؤ کے مؤثر طریقے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سردی کا موسم جہاں ایک طرف دھند، ٹھنڈی ہوائیں اور کم درجہ حرارت لے کر آتا ہے، وہیں دوسری جانب نزلہ، زکام، فلو، کھانسی اور گلے کی سوزش جیسے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔
اکثر لوگ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ سردیوں میں وہ بار بار بیمار کیوں پڑ جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق اس کی بنیادی وجہ سرد موسم میں جسم کی قوتِ مدافعت کا کمزور ہونا ہے۔
سرد موسم میں قوتِ مدافعت کم ہونے کی بڑی وجوہات
سردیوں میں پاکستان کے بیشتر شہروں میں سورج کی روشنی کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اس کی کمی جسم کو بیماریوں کے خلاف کمزور بنا دیتی ہے۔
اس کے علاوہ سرد موسم میں لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور زہریلے مادے آسانی سے خارج نہیں ہو پاتے، جس سے قوتِ مدافعت متاثر ہوتی ہے۔ ٹھنڈی اور خشک ہوا ناک اور گلے کی جھلیوں کو بھی خشک کر دیتی ہے، جس سے وائرس اور جراثیم آسانی سے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
سردیوں میں جسمانی سرگرمی بھی کم ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگ گھروں میں محدود رہتے ہیں، جس سے ورزش کی کمی، وزن میں اضافہ اور میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، یہ تمام عوامل مدافعتی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنک فوڈ، چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بھی جسم کی قدرتی طاقت کو متاثر کرتا ہے۔
کن افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
پاکستانی معاشرے میں بچے، بزرگ، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض، دمہ اور دل کے امراض میں مبتلا افراد سردیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کمزور غذا، نیند کی کمی اور آلودگی بھی ان افراد کے لیے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔
سردیوں میں قوتِ مدافعت مضبوط رکھنے کے آسان طریقے
ماہرین غذائیت کے مطابق سرد موسم میں متوازن غذا کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ دیسی غذا جیسے دالیں، سبزیاں، انڈے، دہی، دودھ، شہد، ادرک، لہسن اور ہلدی قوتِ مدافعت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ روزمرہ خوراک میں کینو، مالٹا، امرود اور لیموں جیسے وٹامن سی سے بھرپور پھل شامل کرنے چاہئیں۔
دھوپ میں کم از کم 15 سے 20 منٹ بیٹھنا وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے، خاص طور پر صبح کے وقت۔ اس کے ساتھ ساتھ نیم گرم پانی پینا، قہوہ یا ادرک والی چائے کا استعمال بھی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
سردیوں میں ہلکی پھلکی ورزش، واک یا اسٹریچنگ کو معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔ مناسب نیند لینا بھی مدافعتی نظام کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کا مشورہ دیتے ہیں۔
دیسی ٹوٹکے جو مددگار ثابت ہوسکتے ہیں
پاکستان میں صدیوں سے آزمائے گئے دیسی ٹوٹکے بھی سردیوں میں قوتِ مدافعت بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نیم گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پینا، شہد اور ادرک کا استعمال، بھاپ لینا اور نمک والے نیم گرم پانی سے غرارے کرنا عام بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سردیوں میں احتیاط نہ کی جائے تو معمولی نزلہ بھی سنگین انفیکشن کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اس لیے بروقت احتیاط، متوازن خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔
سرد موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ چند آسان عادات اپنا کر اور دیسی طریقوں سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف سردیوں کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ قوتِ مدافعت کو بھی مضبوط رکھا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سردیوں میں جاتے ہیں میں قوت کی کمی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔