آج یا کل میں سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو جائے گا: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے آج یا کل میں سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب سے متعلق سوال کا جواب دیتے کہا کہ آج یا کل میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہوجائے گا، بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماؤں کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا، دونوں کا ہو جائے تو بہتر ہے۔
صحافی نے سوال پوچھا کہ جے یو آئی کہہ رہی ہے اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن نواز شریف کے کہنے پر ہوا؟
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارا ایک نہیں بلکہ دو بار مینڈیٹ چوری ہوا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اسپیکر کی صوابدید ہے جو انہوں نے کردیا، ہماری کوشش تھی اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو جس نے بھی کروایا بہتر ہوا۔ میرے خیال میں نوٹیفکیشن اسپیکر قومی اسمبلی نے کیا، ہم ان کے مشکور ہیں۔
پی ٹی آئی ممبران جوڈیشل کمیشن کے گزشتہ اجلاسوں میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ سے متلعق سوال پر انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی حیثیت تبدیل ہوئی، 26ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کی وجہ سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پہلے بھی شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چاہتے تھے جو بھی ججز آجائیں ہم اس طریقہ کار کا حصہ رہیں اور اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔ 27ویں آئینی ترمیم اور نئی عدالت بنی، تب سے اب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی تو ان سے گفت شنید کرکے آگے بڑھیں گے، جس طرح باقی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کیا اسی طرح جوڈیشل کمیشن اجلاس میں بھی نہیں گئے۔ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔