عبدالعلیم خان اور سینیٹر پلوشہ کے درمیان تلخ کلامی، وفاقی وزیر سے ایوان میں آکر معافی مانگنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سینیٹر پلوشہ کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ انتہائی شرمناک ہے، عبدالعلیم خان سے کہا ہے کہ وہ ہاؤس میں آکر معافی مانگیں۔
مزید پڑھیں: پلوشہ خان کی علیم خان کے خلاف تحریک استحقاق، اتحادیوں کے بیچ بدمزگی
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا رویہ کمیٹیوں میں پہلی بار دیکھا گیا، ہر ممبر کو سوال کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم بات ذاتیات پر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے علیم خان سے بات کی اور کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ معافی مانگیں، جس پر علیم خان نے کہا کہ وہ پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں۔ تاہم ہم نے انہیں باور کرایا کہ جس انداز میں معافی دی گئی وہ درست نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے علیم خان سے کہاکہ بہتر ہے کہ آپ قواعد کے مطابق یہ مسئلہ حل کریں۔ ’جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کب آئیں گے تو انہوں نے بتایا کہ وہ عمرہ کے لیے گئے ہیں اور 25 جنوری کو واپس آئیں گے۔‘
شیری رحمان کے مطابق انہوں نے علیم خان سے کہاکہ ہاؤس 27 تک چل رہا ہے، آپ آئیں اور ایوان میں سب کے سامنے معافی مانگیں۔
مزید پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی
واضح رہے کہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں آمنے سامنے آگئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پیپلز پارٹی سینیٹر پلوشہ عبدالعلیم خان معافی کا مطالبہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی سینیٹر پلوشہ عبدالعلیم خان معافی کا مطالبہ وی نیوز عبدالعلیم خان سینیٹر پلوشہ علیم خان سے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔