روسی فوج سلاویانسک شہر سے 30 کلومیٹردور، یوکرین کے 1210 فوجی ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز

ماسکو(آئی پی ایس )روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں یوکرینی افواج کو مختلف محاذوں پر مجموعی طور پر 1,210 اہلکاروں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ روسی فضائیہ، میزائل فورسز اور توپخانے نے ڈرون اسمبلی مراکز، توانائی اور نقل و حمل کے انفراسٹرکچر اور غیر ملکی جنگجوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا

وزارتِ دفاع کے مطابق یوکرینی فوج کے 175 اہلکار شمالی محاذ، 200 مغربی محاذ، 135 سے زائد جنوبی محاذ، جبکہ 455 سے زائد سنٹر محاذ پر ہلاک یا زخمی ہوئے، اسی طرح مشرقی محاذ پر 205 اور دنیپر محاذ پر 40 کے قریب اہلکار متاثر ہوئے، مجموعی طور پر 149 مقامات پر یوکرینی فوج کے عارضی ٹھکانوں اور اسلحہ و لاجسٹک سپورٹ مراکز پر حملے کیے گئے۔

دوسری جانب ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کی قیادت نے بتایا ہے کہ روسی فورسز شمالی ڈونباس میں اہم پیش قدمی کر رہی ہیں اور تاریخی و اسٹریٹجک شہر سلاویانسک کے قریب پہنچ چکی ہیںڈینس پشیلین نے بتایا کہ زاکوتنوئے کے علاقے پر کنٹرول کے بعد روسی فوج اب سلاویانسک سے تقریبا 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ گریشینو اور بیلیتسکوئے کے محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے، روسی فوج دوپروپولیے کی طرف بھی بڑھ رہی ہے جو یوکرینی فوج کے لیے ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے جہاں سے شمالی محاذ کو گولہ بارود، ڈرون اور دیگر سامگری فراہم کی جاتی ہے۔

سلاویانسک جغرافیائی طور پر ڈونباس کے شمالی حصے میں واقع ہے اور یوکرینی دفاعی ڈھانچے کا ایک اہم زمینی نوڈ سمجھا جاتا ہے، یہ شہر کونستانتینووکا، کراماتورسک اور کراسنی لیمان کے درمیان سپلائی کوریڈور تشکیل دیتا ہے اور اگر روس یہاں مزید آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پورے شمالی دونباس میں یوکرینی کمانڈ کو شدید دبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پشیلین نے مزید کہا کہ کونستانتینووکا کے اطراف بھی روسی پیش رفت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کلیبان بکسکائے واٹر ریزروائر کے قریب ان کی فورسز نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، یوکرین کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق یا تردید تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم کیف کے حکام پہلے بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ ڈونباس میں صورتحال پیچیدہ ہے اور محاذوں پر دبا بڑھ رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب، مدارس کے نظام میں عدم مداخلت اور نصاب تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی پنجاب، مدارس کے نظام میں عدم مداخلت اور نصاب تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر شروع کیا گیا، وزیراعلی نوبیل نہیں دیا گیا،خود کو اب امن کا پابند نہیں سمجھا ،ٹرمپ کی یورپ کو دھمکی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر زور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کا معاملہ زور پکڑ گیا کینیڈین وزیر اعظم کا ٹرانس پیسفیک دورہ بیجنگ سے کہیں آگے تک پہنچا ہے، چینی میڈیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: روسی فوج

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک