لاہور: کاہنہ کے علاقہ میں باپ اور 2 بیٹوں کے قتل کا معمہ حل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور: پولیس نے کاہنہ کے علاقہ میں باپ اور 2 بیٹوں کے قتل کا معمہ حل کرلیا۔انچارج انویسٹی گیشن تھانہ کاہنہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا، ملزمان اور مقتولین کا آپس میں لین دین کا تنازع تھا۔ایس پی انویسٹی گیشن شاہد نواز وڑائچ کے مطابق مرکزی ملزم محکمہ ہیلتھ میں پولیو بلاک انچارج ہے، خاتون ملزمہ بھی پولیو ورکر کی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں۔ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق مرکزی ملزم نے ساتھی خاتون ملزمہ کے ساتھ مل کر بزرگ شہری نعمان اور اس کے 2 بیٹوں عمران اور کامران کو جوس میں نشہ آور گولیاں ملا کر دیں۔جوس پینے کے بعد مقتولین بے ہوش ہوگئے، بیہوش کرنے کے بعد ملزمان نے گلا دبا کر باپ اور اس کے 2 بیٹوں کو بے دردی سے قتل کردیا۔ملزمان نے قتل کرنے کے بعد مقتولین کی موبائل ایپ سے 30 لاکھ اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر بھی کر لیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔