اسلام آباد؛ موبائل فون چھین کر IMEI تبدیل کرکے افغانستان فروخت کرنے والا منظم گروہوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام اباد پولیس کے رابری ڈکیتی یونٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں سے قیمتی موبائل فون چھین کر آئی ایم ای آئی تبدیل کر کے افغانستان فروخت کرنے والے منظم گروہوں کے 16 ارکان کو گرفتار کر لیا جس میں گینگ کا لیڈر بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے چھینے گئے لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی موبائل فونز، موٹر سائیکل برآمد ہوئیں۔
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے بتایا کہ ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والے 02 موٹر سائیکل اور 05 پستول مع ایمونیشن برآمد کی گئیں۔ ملزمان اسلام آباد پولیس کو راہزنی، شاپ رابری اور دیگر سنگین جرائم کی 16 وارداتوں میں مطلوب تھے۔
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ملزمان نے جڑواں شہروں میں متعدد وارداتیں کرنے اور چھینے گئے موبائل فون افغانستان فروخت کرنے کا انکشاف کیا، گینگز کے دیگر سہولت کاروں اور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے تحرک جاری ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز اسلام اباد قاضی علی رضا کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ان کے قیمتی اثاثوں سے محروم کرنے والے ملزمان کے خلاف اہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، منظم اور متحرک گینگز کےخلاف بڑے پیمانے پر کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔