اسلام آباد ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے تین ججز نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آ ن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل ہونے والے تین ججز جسٹس محمد آصف، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے حلف اٹھا لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے تینوں ججز سے حلف لیا۔
تقریب حلف برداری کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی، رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن پڑھ کر سنایا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز تقریب میں شریک ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
ندا یاسر ایک بار پھر ٹرولرز کے نشانے پر
وزارت قانون نے صدر مملکت کی منظوری سے تینوں ججز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔ تینوں ججز نے مستقل تعیناتی سے قبل ایک تک سال بطور ایڈہاک جج کام کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ کورٹ کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔