حکومت نے 2026 کی تعطیلات کی فہرست جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی حکومت نے سال 2026 کے لیے سرکاری تعطیلات کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت قومی، مذہبی اور اقلیتی تہواروں کے مواقع پر ملک بھر میں عام تعطیلات ہوں گی۔
پیر کے روز کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے بعد کابینہ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، جس میں آئندہ سال کے لیے تعطیلات کی تفصیلات درج ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سال 2026 کا آغاز یومِ کشمیر کی عام تعطیل سے ہوگا، جو 5 فروری بروز جمعرات منائی جائے گی۔ اس کے بعد یومِ پاکستان کے موقع پر 23 مارچ بروز پیر ملک بھر میں سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بیشتر نجی ادارے بند رہیں گے۔
مذہبی تہواروں کے حوالے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق عیدالفطر پر 21، 22 اور 23 مارچ کو تین روزہ عام تعطیلات ہوں گی۔ اسی طرح یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں چھٹی ہوگی، جبکہ 28 مئی کو یومِ تکبیر کے موقع پر بھی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے لیے 27، 28 اور 29 مئی کو مسلسل تین دن کی تعطیلات دی جائیں گی، جب کہ محرم الحرام کے سلسلے میں 9 اور 10 محرم یعنی 24 اور 25 جون کو عام تعطیل ہوگی۔ ان ایام میں سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے متعلقہ ادارے علیحدہ ہدایات جاری کریں گے۔
قومی تہواروں میں پاکستان کے یومِ آزادی پر 14 اگست بروز جمعہ عام تعطیل ہوگی، جبکہ عید میلاد النبی ﷺ 25 اگست بروز منگل منائی جائے گی اور اس دن بھی سرکاری سطح پر چھٹی دی جائے گی۔ اسی طرح علامہ محمد اقبال کی پیدائش کے موقع پر 9 نومبر بروز پیر عام تعطیل ہوگی۔
سال کے اختتام پر 25 دسمبر کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سالگرہ اور کرسمس کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ 26 دسمبر کو صرف مسیحی برادری کے لیے خصوصی تعطیل ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یکم جنوری، 18 فروری اور یکم جولائی کو بینکوں کی تعطیلات ہوں گی، جن کا اطلاق صرف بینکاری شعبے تک محدود ہوگا۔
حکام کے مطابق سرکاری تعطیلات کے اس شیڈول کا مقصد عوام کو بروقت آگاہی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے تعلیمی، کاروباری اور نجی معاملات کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تعطیل ہوگی کے موقع پر عام تعطیل کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔