مری روڈ رابی سینٹر کے قریب روڈ ٹریفک حادثہ، دو افراد جاں بحق، دو زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ملک نجیب ) مری روڈ رابی سینٹر کے قریب پیش آنے والے شدید روڈ ٹریفک حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 راولپنڈی کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ممکنہ طور پر ایک تیز رفتار گاڑی بے قابو ہو کر روڈ کے درمیان موجود ڈیواڈر کو کراس کر کے مخالف سمت سے آنے والی ایک کار اور موٹر سائیکل سواروں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی دو افراد جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ ریسکیو اہلکاروں نے بروقت امدادی کارروائی کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ریسکیو ایمبولینسوں کے ذریعے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جبکہ ایک شخص کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو آپریشن کی نگرانی ایمرجنسی آفیسر آپریشن حمزہ علی خان نے کی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 25 سالہ ذوہیب اور 42 سالہ رضوان اور زخمیوں میں 59 سالہ منیر اور 20 سالہ مزمل شامل ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ 34 سالہ شہریار کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر راولپنڈی انجینئر صبغت اللہ نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیونگ کے دوران تیز رفتاری، ون وے کی خلاف ورزی اور موٹر سائیکل پر بغیر ہیلمٹ سفر کرنا قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔ شہری ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ حادثات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
راولپنڈی
مری روڈ پر صبح سویرے ایک بڑا حادثہ
دو کاروں کی آپس میں ٹکر
ایک موٹر سائیکل سوار اور ایک مسافر جاں بحق ہو گئے جبکہ دونوں کار سوار معمولی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل pic.
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 19, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔