سانحہ گل پلازا: لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث فوری شناخت ممکن نہیں، ڈاکٹر عابد
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر عابد کا کہنا ہے کہ گل پلازا میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث فوری شناخت ممکن نہیں۔
ڈاکٹر عابد نے کہا کہ مربوط، منظم، مکمل طور پر تکنیکی بنیادوں پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، سرچ آپریشن کے لیے اربن سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس اور ڈیزاسٹر ریسپانس وہیکل موجود ہیں، جدید اور پیشہ ورانہ طریقۂ کار کے تحت سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
کراچی: گل پلازا میں آگ لگنے کے فوری بعد کی ویڈیو سامنے آگئیفائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی پہلی منزل پر ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 5 مختلف نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، سرچ آپریشن میں ریسکیو 1122 کی 3 ٹیمیں متحرک ہیں، ایک خصوصی ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ کے عمل میں مصروف ہے۔
خیال رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 71 تاحال لاپتہ ہیں، رات سے اب تک 20 لاشیں نکالی گئی ہیں، آگ سے متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرگیا، آگ پر 33 گھنٹوں بعد قابو پایا گيا، کولنگ کا عمل ابھی جاری ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ سول اسپتال کراچی سے فوری رابطہ کریں اور مردہ خانے میں اپنا ڈیٹا جمع کروائیں۔
آگ بجھنے کا سنتے ہی اپنے پیاروں کی تلاش کے منتظر خستہ حال عمارت کے اندر دوڑ پڑے، زندگی کی تلاش کی امید ابھی باقی لیکن ساتھ ہی ملبہ ہٹانے کا کام بھی اب تیز ہونے لگا، لاپتا 29 افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ کے اطراف کی آرہی ہے، لاپتا افراد کے لواحقین کو سول اسپتال میں اپنا ڈیٹا اور ڈی این اے نمونےجمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔
آتشزدگی کے بعد اسپتال لائے گئے زخمی تمام 30 افراد کو اسپتالوں سے ڈسچارج کر دیا گیا، عمارت میں آگ لگنے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔
ویڈیو میں آگ لگنے کا وقت رات 10 بج کر 22 منٹ ہے، آگ کے باعث گل پلازا کے ساتھ والی عمارت بھی متاثر ہوگئی، پلرز ٹیڑھے ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔