سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 5 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کوئٹہ (نیوزڈیسک)کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ، ہلاک دہشتگرد کوئٹہ، سبی شاہراہ کو بلاک کرنے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے مسلح دہشت گرد مستونگ کے علاقے دشت میں موجود ہیں اور کوئٹہ – سبی شاہراہ پر ناکہ بندی کے ساتھ سیکیورٹی فورسز اور شہری ٹریفک کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اطلاع ملتے ہی سی ٹی ڈی کوئٹہ کی ٹیمیں فوری طور پر علاقے میں پہنچیں اور نگرانی شروع کی۔
ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد فریقین کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ مقابلے کے دوران پانچ نامعلوم دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کے دیگر ساتھی دشوار گزار اور پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے پانچ سب مشین گنز بمعہ گولہ بارود، سات دستی بم اور تین موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری اور باقی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے علاقے میں سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے، جبکہ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔