مغربی کنارہ: یہودی آبادکاروں کافلسطینی گھروں پر حملہ، گھر اور گاڑیاں نذرآتش
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے جب کہ شدت پسندوں نے 8 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نذرآتش کیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے جب کہ شدت پسندوں نے 8 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نذرآتش کیا۔
یہودی آبادکاروں کے حملے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جنہیں اسرائیلی میڈیا نے نشر کیا۔ اسرائیلی فوج نے یہودی قوم پرست حملوں کو تسلیم کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں یہودی قوم پرستانہ جرائم اور آبادکاروں کے تشدد کے 750 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سال 2024 میں فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں نے 675 حملے کیے تھے۔
یہودی شدت پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے، اسرائیل میں سخت گیر حکومت ہے اور فلسطینیوں پر حملوں کو نظر انداز کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینیوں پر حملوں کو نتین یاہو اور قومی سلامتی کے مشیر بن گوئیر ’ نظرانداز‘ کرتے ہیں۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق یہودی آباد کاروں کے حملوں کی تحقیقات میں 73 فیصد کمی آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔