برقع پوش خاتون کی بہادری نے ماں بچوں کی جان بچالی، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سعودی عرب کے جنوبی صوبے جازان میں ایک نوجوان خاتون کی بروقت اور جرأت مندانہ کارروائی نے ماں اور اس کے بچوں کو بڑے حادثے سے بچا لیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں خاتون کی غیرمعمولی حاضر دماغی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک سفید ٹویوٹا گاڑی غلط طریقے سے پارک ہونے کے باعث ڈھلان پر خود بخود لڑھکنے لگتی ہے۔ گاڑی میں ایک ماں اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھی اور صورتحال تیزی سے خطرناک رخ اختیار کر رہی تھی۔ اسی لمحے عبایا پہنے ایک نوجوان خاتون قریب سے دوڑتی ہوئی گاڑی تک پہنچتی ہے، دروازہ کھولتی ہے اور فوراً ہینڈ بریک کھینچ کر گاڑی کو روک دیتی ہے، یوں چند لمحوں میں ایک ممکنہ سانحہ ٹل جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس قدر تیزی سے پیش آیا کہ پلک جھپکنے میں سب کچھ ہو گیا، تاہم خاتون کے فوری ردعمل نے قیمتی جانیں محفوظ بنا لیں۔ ویڈیو میں خاتون کے پُراعتماد انداز اور بے خوف اقدام نے ناظرین کو خاصا متاثر کیا ہے۔
A girl in Saudi Arabia saves a family from an accident after the car owner forgot to park it properly, with a mother and her children inside.
یہ سی سی ٹی وی فوٹیج سب سے پہلے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر سعودی ایکسپیٹ کمیونٹی کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، جس کے بعد انسٹاگرام اور ریڈٹ سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی۔ ہزاروں صارفین ویڈیو دیکھ چکے ہیں اور خاتون کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں ’’کمیونٹی کی وجیلنس‘‘ اور ’’انسٹِنکٹو کوریج‘‘ جیسے القابات دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ ہے اصل ہیروئن!‘‘
واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کرا دی ہے کہ گاڑی پارک کرتے وقت معمولی سی لاپرواہی بھی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غلط پارکنگ، نامناسب مقامات پر گاڑی کھڑی کرنا اور ڈھلان پر احتیاط نہ برتنا اکثر حادثات کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ اس لیے گاڑی پارک کرتے وقت مکمل توجہ اور ذمے داری کا مظاہرہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔