جولائی تا ستمبر ٹک ٹاک نے پاکستان کی 2 کروڑ سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر پاکستان میں مجموعی طور پر 2 کروڑ81 لاکھ 98ہزار 284ویڈیو حذف کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی جانب سے رواں مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کی کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ جاری کر دی۔ جس سے ٹک ٹاک کے صارفین کو ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔
ماہ جولائی سے ستمبر کے عرصہ کے اعداد و شمار پر مشتمل یہ رپورٹ اُن پیشگی اقدامات کی تفصیل فراہم کرتی ہے جو ٹک ٹاک نے اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے کانٹنٹ کی نشاندہی اور اُسے حذف کرنے کے لیے کیے ہیں تاکہ اپنی عالمی کمیونٹی کے لیے ایک مثبت تجربہ یقینی بنا سکے۔
ٹک ٹاک نے 2025کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 2 کروڑ81 لاکھ 98 ہزار 284ویڈیوز حذف کیں۔ پاکستان میں پیشگی طور پر کانٹنٹ حذف کرنے کی شرح 99.
ٹیکنالوجی جس طرح ان کاموں کا زیادہ تر حصہ سنبھال رہی ہے، پلیٹ فارم کے تحفظ پر مامور ہماری ٹیمیں اُن شعبوں پر زیادہ وقت صرف کر تی ہیں جہاں انسانی فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً اپیلوں کا جائزہ لینا، بیرونی ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنا، اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر موٴثر ردِعمل ظاہر کرنا۔
اس سہ ماہی کے دوران، عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے دنیا بھر میں مجموعی طور پر 20 کروڑ 40 لاکھ ویڈیوز حذف کیں جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیے گئے کُل کانٹنٹ کا تقریباً 0.7 فیصد بنتا ہے۔
حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 18 کروڑ 66 لاکھ 8 ہزار 81 ویڈیوز خودکار ٹیکنالوجیز کی نشاندہی پر ہٹائی گئیں۔ تاہم، مزید جائزے کے بعد 89 لاکھ 50 ہزار 735 ویڈیوز بحال کر دی گئیں۔ پیشگی طور پر کانٹنٹ حذف کرنے کی شرح 99.3 فی صد رہی اور نشان دہی کیے گئے کنٹنٹ میں سے 94.8 فیصدویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر حذف کردی گئیں۔
ٹک ٹاک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس سہ ماہی کے دوران پلیٹ فارم نے 11 کروڑ 86 لاکھ 18 ہزار 399 جعلی اکاوٴنٹس کو حذف کیا اور ساتھ ہی مزید 2 کروڑ 22 لاکھ 26 ہزار 542 ایسے اکاوٴنٹس بھی حذف کیے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ 13 سال سے کم عمر صارفین کے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حذف کی گئیں مجموعی ویڈیوز کا ایک نمایاں حصہ یعنی 30فیصد، ایسے حساس یا بالغ افراد سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر مشتمل تھا جو ٹک ٹاک کی کانٹنٹ سے متعلق پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ مزید 15.7 فیصد ویڈیوز نے پلیٹ فارم کے تحفظ اور شائستگی کے معیارکی خلاف ورزی کی تھی، جبکہ 2.7 فیصد ویڈیوز نے رازداری اور سیکیورٹی سے متعلق رہنما اصولوں کی خلاف ورزی پر حذف کی گئیں۔
اس کے علاوہ، حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 32.9 فیصد کی غلط معلومات کے طور پر نشاندہی کی گئی جبکہ 34.4 فیصد ویڈیوز کو ترمیم شدہ میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کانٹنٹ کے طور پر شناخت کیا گیا۔
کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ کی رپورٹ کی باقاعدہ اشاعت، کانٹنٹ اور اکاوٴنٹس کے خلاف کیے گئے اقدامات کی نوعیت اور پیمانے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے، جس سے مکمل شفافیت کے لیے ٹک ٹاک کا عزم اجاگر ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی فیصد ویڈیوز حذف کی گئی پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی ٹک ٹاک نے سہ ماہی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔