گل پلازہ میں آگ لگنے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کیا ہے، کمشنر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فوٹو: اے ایف پی
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگنے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا اب تک واقعے سے متعلق جمع کیے گئے ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اموات کی تعداد 26 ہوچکی ہے، تحقیقاتی کمیٹی آج ہی بنائی گئی ہے۔ ڈی این اے اور مسنگ پرسنز پر کام جاری ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی پہلی منزل پر ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ کچھ روز میں حقائق اور وجوہات سامنے آجائیں گی، ضلعی انتظامیہ اس وقت ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف ہے۔ کسی بھی قسم کا مجرمانہ فعل یا غفلت ثابت ہوئی تو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ گل پلازہ میں ہائی فلیم ایبل سامان موجود تھا، آگ کی شدت بھی بہت زیادہ تھی۔
دوسری جانب کراچی کے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی جبکہ 71 تاحال لاپتہ ہیں، رات سے اب تک 20 لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں سے 18 کی شناخت ہوگئی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہید فائر فائٹر فرقان کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کردیا۔
آگ سے متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرگیا، آگ پر 33 گھنٹوں بعد قابو پایا گيا، کولنگ کا عمل ابھی جاری ہے۔
آگ بجھنے کا سنتے ہی اپنے پیاروں کی تلاش کے منتظر خستہ حال عمارت کے اندر دوڑ پڑے، زندگی کی تلاش کی امید ابھی باقی ہے، ملبا ہٹانے کا کام بھی اب تیز ہونے لگا۔
لاپتا 29 افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ کے اطراف کی آرہی ہے، لاپتا افراد کے لواحقین کو سول اسپتال میں اپنا ڈیٹا اورڈی این اے نمونے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کراچی میں فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بھی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔
آگ لگنے کے بعد اسپتال لائے گئے زخمی تمام 30 افراد کو اسپتالوں سے ڈسچارج کردیا گیا۔
عمارت میں آگ لگنے کی سی سی ٹی وی وڈیو بھی سامنے آگئی، وڈیو میں آگ لگنے کا وقت رات 10 بج کر 22 منٹ ہے، آگ کے باعث گل پلازہ کے ساتھ والی عمارت بھی متاثر ہوگئی، پلرز ٹیڑھے ہوگئے۔
سانحہ گل پلازہ پر کراچی میں تاجروں کی اپیل پر آج بازار بند رہے، سندھ بار کونسل نے یوم سیاہ منایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازہ میں میں ا گ لگنے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔