سانحہ گل پلازا: فائر فائٹرفرقان کے ورثاء کو ایک کروڑروپے،بیوہ کو ملازمت دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سانحہ گل پلازہ میں شہید فائر فائٹر فرقان علی کی بیوہ کو ملازمت اور بیٹے کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میئر کراچی نے شہید فائر فائٹر فرقان کے لواحقین کے لیے بھی ایک کروڑ روپے کی مالی معاونت جبکہ بیوہ کو ملازمت بھی دینے کا اعلان کیا۔
میئر کراچی پیر کے روز جاں بحق فائر فائٹر فرقان کے گھر پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔ا س موقع پر مرتضٰی وہاب کا کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہید فرقان کی بیوہ کو ملازمت فراہم کرے گی اور بچے کے تمام تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ فرقان کی بیوہ کو ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام مالی فوائد اور تنخواہیں باقاعدگی سے ملتی رہیں گی اور بچے کے تمام تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرے گی۔جبکہ ناظم آباد فائر اسٹیشن کا نام شہید فرقان کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
فرقان فائر بریگیڈ کا ملازم تھا جو اتوار کے روز صدر میں واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر کی شعلوں میں گھری عمارت میں پھنسے افراد کو بچانے کے دوران جاں بحق ہوا تھا۔
گل پلازہ کی آگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فرقان کی شادی کو ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ ہی گزرا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق فرقان کا چھ ماہ کا ایک بیٹا ہے، جسے اس نے وکیل بنانے کے خواب دیکھ رکھے تھے۔اہلِ خانہ کے مطابق 38 سالہ فرقان بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور ہر کسی کا لاڈلا تھا۔ غم سے نڈھال بہنوں کا کہنا ہے کہ فرقان ان کے لیے والد کی جگہ اور خاندان کا سہارا تھا۔
شہید فرقان کے بھائی کے مطابق ہفتے کی شام اس کی فرقان سے آخری ملاقات ہوئی تھی جبکہ اگلی صبح موبائل پر بات ہوئی، اس کے بعد کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔ اہلِ خانہ کے مطابق فرقان علی اپنے پیچھے چھ ماہ کا بیٹا، بیوہ، دو بھائی اور چار بہنیں سوگوار چھوڑ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیوہ کو ملازمت فرقان کے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔