وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کا اعلان کر دیا، امدادی رقوم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی۔
نیوز کانفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ سے 15 لاشیں مل چکی ہیں، 22 افراد کو معمولی زخم آئے، وہ گھروں کو جا چکے ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتہ ہیں، واقعہ میں 80 افراد متاثر ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دو دن پہلے افسوس ناک واقعہ پیش آیا، گل پلازہ سب ہی کبھی نہ کبھی جا چکے ہوں گے، سوا دس بجے کے قریب آگ بھڑکی، آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے، شاید شارٹ سرکٹ کہ وجہہ سے آگ لگی۔
انہوں نے کہا کہ 100 فائر فائٹر کے ایم سی اور 100 فائر فائٹر 1122 کے وہاں آئے، صوبائی وزیر سعید غنی، مئیر مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی مئیر سلمان اور میں بھی وہاں گیا، نیوی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی مدد کی۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ فائر فائٹر نے تین جگہیں بنائی ہیں جہاں سے وہ اندر گئے ہیں، عمارت چالیس فیصد کولیپس ہو چکی ہے، شاید پوری عمارت گرانی پڑے، ہم سب غمگین ہیں ، دکھ میں شریک ہیں، فائر فائٹر فرقان شہید ہوا ہے، اسکا والد بھی فائر فائٹر تھے اور شہید ہوئے تھے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ آج صبح ایک میٹنگ کی تھی، کراچی چیمبر سے مشورہ کیا، فوری طور پر کوشش ہے مسنگ افراد کا پتہ لگ سکے، جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑروپے دیں گے، کاغذات مکمل ہوتے ہی یہ سلسلہ شروع ہوجائے گا، امدادی رقوم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فائر فائٹر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔