جسمانی فٹنس میں کس عمر میں کمی آنا شروع ہوتی ہے؟ سائنسدان جاننے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی فٹنس اور مضبوطی میں بتدریج کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم یہ عمل کس عمر میں شروع ہوتا ہے، اس بارے میں اب تک واضح شواہد موجود نہیں تھے۔
تاہم اب ایک نئی تحقیق میں اس عمر کا تعین کر لیا گیا ہے جس کے بعد جسمانی کارکردگی اور فٹنس میں کمی کا آغاز ہوتا ہے۔ سویڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق 35 سال کی عمر کے بعد جسمانی فٹنس میں زوال آنا شروع ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں شامل چند سو افراد کا تقریباً 47 برس تک مشاہدہ کیا گیا، جس دوران بلوغت کے آغاز سے لے کر 63 سال کی عمر تک ان کی فٹنس، جسمانی طاقت اور پٹھوں کے حجم کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا۔ اس طویل المدتی تحقیق میں عمر کے ساتھ جسم میں آنے والی دیرپا تبدیلیوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق ماضی کی بیشتر تحقیقات مختلف ڈیٹا بیسز پر مبنی تھیں، جن میں ایک ہی فرد کا طویل عرصے تک مشاہدہ شامل نہیں تھا۔ اس کے برعکس، اس تحقیق میں شرکا کی جسمانی حالت کو تقریباً پانچ دہائیوں تک یکساں طریقۂ کار کے تحت جانچا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 سال یا اس کے بعد جسمانی فٹنس اور مضبوطی میں کمی شروع ہو جاتی ہے، چاہے فرد نے جوانی میں کتنی ہی باقاعدہ ورزش کیوں نہ کی ہو۔ تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر کوئی شخص کسی بھی عمر میں ورزش کو معمول بنا لیتا ہے تو جسمانی تنزلی کا عمل نمایاں حد تک سست ہو سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جسمانی زوال کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہے، مگر باقاعدہ جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے اسے سست ضرور کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسمانی فٹنس شروع ہو
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔