WE News:
2026-07-24@01:28:23 GMT

  فضائی آلودگی مردوں میں کس قسم کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

  فضائی آلودگی مردوں میں کس قسم کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے؟

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی، خصوصاً ٹریفک اور صنعتی دھوئیں، مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گنجان شہری علاقوں یا بڑی سڑکوں کے قریب رہنے والے مردوں میں اس مرض کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے فضائی آلودگی کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے، کیونکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آلودگی پروسٹیٹ کینسر کے آغاز میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً 12 ہزار مرد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

یہ تحقیق برطانیہ میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد مردوں کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ نتائج کے مطابق وہ افراد جو زیادہ آلودہ علاقوں میں رہتے تھے، ان میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کا امکان 6.

9 فیصد زیادہ پایا گیا، بہ نسبت ان مردوں کے جو کم آلودگی والے علاقوں میں مقیم تھے۔

نائٹریٹ (NO3) سب سے بڑا خطرہ قرار

تحقیق میں فضائی آلودگی کے مختلف اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں نائٹریٹ (NO3) کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ نائٹریٹ کاروں کے دھوئیں اور زرعی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس کے کینسر پیدا کرنے کے درست طریقۂ کار کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی، تاہم یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ نائٹروجن (جو NO3 کا اہم جز ہے) کینسر کے خلیات کی افزائش کو فروغ دے سکتی ہے۔

ماضی کی بیشتر تحقیقات میں PM2.5 نامی نہایت باریک زہریلے ذرات پر توجہ دی گئی، جو انسانی بال سے بھی کہیں زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔
یہ ذرات گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اور زرعی اخراج، اور گھریلو ایندھن جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

13 سال سے زائد عرصے تک مردوں کی نگرانی

نئی تحقیق میں 2 لاکھ 24 ہزار مردوں کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 58 سال تھی۔ انہیں 13.7 سال تک فالو کیا گیا، جس دوران تقریباً 5 فیصد افراد میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
ماہرین نے شرکا کی رہائش گاہوں کے پوسٹ کوڈز کی بنیاد پر ان کے فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کی سطح کا اندازہ لگایا۔

ماہرین کی رائے: رہائش بھی اتنی ہی اہم جتنی جینیات

جرنل آف یورولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پیکنگ یونیورسٹی (چین) کے سائنس دانوں نے لکھا ’ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کے معاملے میں صرف جینیات (آپ کون ہیں) اور طرزِ زندگی (آپ کیا کرتے ہیں) ہی نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔‘

ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ نائٹریٹ کے اخراج کے ذرائع، خصوصاً ٹریفک اور زرعی سرگرمیوں، کو ہدف بنا کر کم کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پروسٹیٹ کینسر صحت فضائی آلودگی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروسٹیٹ کینسر فضائی ا لودگی پروسٹیٹ کینسر کے فضائی آلودگی ماہرین نے

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ