سانحہ گل پلازہ ،وزیراعلیٰ کا تمام متاثرین کی بحالی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے تمام متاثرین کی بحالی کا اعلان کر دیا ۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں اب تک 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
گل پلازہ کی عمارت اب دوبارہ بنائیں گے، شہید وں کے خاندانوں کو فوری معاوضہ دینا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ چاہتا ہوں تمام 1200متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کروں، تمام متاثرین چلتے کاروبار سے رات بھر میں بے روزگار ہوگئے۔
وفاقی حکومت کا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ ملبہ اٹھانے کا کام فوری شروع کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں تقریباً رات 10 بج کر 36 منٹ پر آگ لگی،سندھ حکومت آگ لگنے کی فارنزک رپورٹ کروائے گی۔
آگ لگنے کی وجوہات فی الحال معلوم نہیں ہوسکیں، شہید فائر فائٹر فرقان کے والد بھی فائر فائٹنگ میں شہید ہوئے تھے۔
ابھی تک 65 افراد لاپتہ ہیں، سانحے میں شہید افراد کے اہلخانہ کو 1 کروڑ روپے دیں گے ،متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی: پی ڈی ایم اے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔