data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (سٹاف رپورٹر)گل پلازہ میں لگی ہولناک آگ نے جہاں کئی گھر اجاڑ دیے، وہیں ایک ایسا چراغ بھی گل ہو گیا جس نے دوسروں کے گھروں کو بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا نہیں کی۔ ناظم آباد فائر اسٹیشن کا دلیر نوجوان اہلکار، فرقان، ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے تلے دب کر شہید ہو گیا۔ شہید کی جسدِ خاکی جب ان کے گھر پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار تھی اور فضا
شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے کے نعروں سے گونج اٹھی۔سانحے میں شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کردی گئی۔ عینی شاہدین اور فائر بریگیڈ حکام کے مطابق فرقان گل پلازہ میں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن میں مصروف تھے۔ وہ عمارت کے اندرونی حصے میں داخل ہو رہے تھے کہ اچانک چھت پر رکھا بھاری بھرکم جنریٹر اور ملبہ ان پر آن گرا۔ فرقان موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ شہید فرقان کی نمازِ جنازہ میں اعلیٰ سرکاری حکام، فائر بریگیڈ کے افسران، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاک پرچم میں لپٹے ان کے تابوت کو فائر بریگیڈ کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ شہید فائر فائٹر فرقان کے ساتھ ڈیوٹی کرنے والے ایک ساتھی نے روتے ہوئے بتایا، آگ لگی تو فرقان سب سے آگے تھا۔ ہم نے اسے روکا بھی کہ اندر خطرہ زیادہ ہے، پر اس نے کہا کہ ‘اندر لوگ پھنسے ہوئے ہیں، میں کیسے باہر رک سکتا ہوں’ وہ ہمارا فخر تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ غمزدہ شہید کے والد کا کہنا تھا،میرا بیٹا ایک عظیم مقصد کے لیے گیا تھا۔ دکھ تو بہت ہے، مگر فخر ہے کہ اس نے بزدلوں کی طرح نہیں بلکہ ایک ہیرو کی طرح جان دی۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی