اسلام آباد:(نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن پاکستان نے کہا ہے کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ لوکل گورنمنٹ نظام ملکی جمہوری اداروں کا ایک اہم ستون ہے۔ جو مقامی سطح پر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر کو الیکشن کمیشن نے ایک قومی مسئلہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 219 میں ترمیم کی جائے۔ اور مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اسی وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ سفارشات اس لیے بھجوائی گئی ہیں کیونکہ ماضی میں بارہا دیکھا گیا ہے۔ کہ کوئی بھی حکومت بلدیاتی انتخابات بروقت کرانے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کرتی۔ جس کے نتیجے میں نچلی سطح پر جمہوری نظام کمزور پڑتا ہے۔ اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صرف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں۔ بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ آئینی ذمہ داری ہے۔ بروقت انتخابات نہ ہونے سے مقامی سطح پر جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔ جس کا براہ راست نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کے تسلسل اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان