متحدہ عرب امارات میں 3 ہزار 5 سو 23 پاکستانی قید
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:قومی اسمبلی میں وزارت خارجہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں قید پاکستانی شہریوں کی تفصیلات پیش کر دیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت یو اے ای میں مجموعی طور پر 3ہزار5سو23 پاکستانی قیدی موجود ہیں، جن میں سے 1,050 پاکستانی شہری ابو ظہبی کی مختلف جیلوں اور بحالی مراکز میں قید ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق نومبر 2025 تک 769 پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی قیدیوں کے لیے معافی کی درخواستیں باقاعدگی سے متعلقہ حکام کو ارسال کی جاتی ہیں۔ 2025 کے دوران ابو ظہبی حکومت کو 350 معافی کی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کے حقوق کی حفاظت اور قید میں موجود افراد کو ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وہ مسلسل قیدیوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے بہتر رہائشی و قانونی حالات کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستانی قید
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔