Express News:
2026-07-24@01:40:32 GMT

غزہ اور ایران میں لاش شماری

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

لگ بھگ ڈھائی برس سے مغربی میڈیا غزہ میں ہلاک ، زخمی ، معذور اور جھلسنے والے ہر انسان کی باریک بینی سے چھان پھٹک کرتا آ رہا ہے۔ یعنی وہ سچ مچ میں انسان ہی ہیں ؟ واقعی مر گئے ؟ مر گئے تو اسرائیلی بمباری ، فائرنگ ، ٹارچر یا محاصرے کے سبب ہی مرے اور جتنے بھی مرے ان میں سے کتنوں کے بارے میں یقین کیا جائے کہ وہ جنگجو نہیں عام سے لوگ تھے وغیرہ وغیرہ ؟

تباہی کے عینی شاہد اگر مقامی فلسطینی ہیں اور انھوں نے اپنے پیاروں کو ایک کے بعد ایک مرتے بھی دیکھا ہے تب بھی کراس چیکنگ تو بنتی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت انسانی و مادی تباہی کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کرتی ہے ان میں سے ایک ایک دعوی کی صحت کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی لازم ہے۔ بھلے اقوامِ متحدہ سمیت ہر کے لیے دار بین الاقوامی تنظیم وزارتِ صحت کی جانب سے اکہتر ہزار ہلاکتوں کی محتاط گنتی کو درست ہی کیوں نہ مان لے اور چہار جانب سے یہ گواہی بھی کیوں نہ مل جائے کہ مرنے والوں کی اکثریت ( اسی فیصد ) عام شہریوں کی ہے۔ حتی کہ عالمی میڈیا ( مغربی میڈیا ) کو بمباری سے جلتے خیموں میں پگھلتے زندہ انسانوں کی ان سیکڑوں وڈیوز کی بھی تصدیق درکار ہے جن کا اوریجن ہی غزہ ہے۔

اب تو آزاد محقق بھی کہہ رہے ہیں کہ غزہ کی وزارتِ صحت نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد کے نو ماہ کے دوران جتنی ہلاکتوں کی تصدیق کی وہ اصل تعداد سے کم ازکم چالیس فیصد کم ہیں۔ گنتی میں وہ لوگ تو شامل ہی نہیں کیے گئے جو بیماری ، بھوک ، موسم کی سختی ، طبی مراکز کی جامع تباہی ، آلودہ و زہریلے پانی کے استعمال اور صحت و صفائی کے نظام کی بربادی کے سبب مرے یا جن کے ڈھانچے ملبے تلے دب گئے یا ان کے پرخچے اڑ گئے یا ٹینکوں اور فوجی بلڈوزروں تلے کچلے گئے یا آس پاس کے بھوکے جانوروں کی خوراک بن گئے۔

 جون دو ہزار چوبیس میں برطانوی طبی جریدے دی لانسٹ کا اندازہ تھا کہ پہلے نو ماہ کے دوران غزہ میں جنگی و غیر جنگی اسباب ملا کے ایک لاکھ چھیاسی ہزار انسان مر چکے ہیں۔مگر دی لانسٹ جیسے ذمے دار اور موقر جریدے کی یہ رپورٹ کسی مغربی اخبار ، چینل یا ویب سائٹ کی چیختی دھاڑتی سرخی نہ بن سکی۔

سوچئے دی لانسٹ رپورٹ شائع ہونے کے بعد کے پندرہ ماہ میں دس اکتوبر دو ہزار پچیس کی جنگ بندی تک مزید کتنے مرے ہوں گے اور جنگ بندی کے بعد بھی اب تک مسلسل اسرائیلی حملوں میں مزید ساڑھے چار ہو ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ بھوک ، بیماری ، بے گھری اور سردی انسانوں کو بلاوقفہ نگل رہی ہے ۔ ؟ مگر مغربی میڈیا آج تک غزہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ’’ اسرائیلی تردید یا غیر مصدقہ ذرائع یا حماس کی وزارتِ صحت کا دعوی ‘‘ جیسے سابقے لاحقے خبر میں شامل کرنا نہیں بھولتا۔

اور پھر اسی انتہائی احتیاط پسند میڈیا کی حالیہ ایرانی ہنگاموں کی کوریج کا انداز غزہ کے برعکس ایک سو اسی ڈگری پر گھوم گیا۔

مغربی میڈیا نے ناروے سے متحرک ایرانین ہیومین رائٹس کونسل اور امریکا میں قائم ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی ( ہرانا ) کی جانب سے ہلاکتوں کے ہر دعوی کو بنا اگر مگر فوراً تسلیم کر کے شہہ سرخیوں میں بدل دیا۔حالانکہ میڈیا کو بخوبی معلوم ہے کہ ہنگاموں کے دوران ہرانا نامی اس ادارے کی ایران کے اندر کسی طرح کی زمینی پہنچ نہیں تھی۔بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ایران میں کسی بھی ذمے دار بین الاقوامی میڈیائی ادارے کو اٹھائیس دسمبر تا پندرہ جنوری رپورٹنگ کی کھلی چھوٹ میسر نہیں تھی۔انٹرنیٹ کا بھی مکمل بلیک آؤٹ تھا۔پھر بھی مغربی میڈیا ایران کے اندرونی و بیرونی ’’ ذرائع ‘‘ کا حوالہ دے کر دھڑلے سے بارہ ہزار سے پچیس ہزار کے درمیان ہلاکتوں کے دعوے الہامی جوش و خروش کے ساتھ شائع اور نشر کرتا رہا۔

ایک ہی طرح کے میڈیا میں دو الگ الگ خطوں کے بارے میں رپورٹنگ کے متضاد معیارات برتنے کا مطلب یہ ہے کہ جن واقعات کی رپورٹنگ کوئی مخصوص بیانیہ آگے بڑھانے میں سودمند ہے اس کے لیے خبر کی صحت پرکھنے والی کم ازکم کسوٹی سے مکمل دستبرداری بھی جائز ہے اور جس المیے سے مخصوص بیانیے کو زک پہنچے اس المئے کی اطلاعاتی ترسیل کو تصدیق کی باریک ترین چھلنی سے گذارنے کے بعد بھی سوالیہ نشان کے ساتھ پیش کیا جائے۔

 جمہوری اقدار ، انسانی حقوق کے تحفظ اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک ادارتی پالیسی مسلح کارروائی کا آسان جواز فراہم کرتی ہے اور ایک اور طرح کی پالیسی ریاستی نسل کشی کی عریانی کو قانونی و اخلاقی جواز کی چادر دیتی ہے۔

اس پیمانے پر تولا جائے تو فلسطین بالخصوص غزہ کے ہلاک شدگان کے ناموں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات کے مصدقہ ریکارڈ کے بارے میں حقیقی رپورٹنگ مغربی پالیسیوں کے لیے باعثِ خفت ہے۔لہذا یہ جائز مستحق کوریج سے بھی محروم ہے۔

 موازنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران میں ریاستی تشدد نہیں ہو رہا یا لوگ بڑی تعداد میں نہیں مرے یا حکومتی پالیسیوں کے مخالفوں کا کاز جھوٹا ہے۔اب تو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی کہہ رہے ہیں کہ ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تاہم امتیازی نیوز کوریج میڈیائی گراوٹ کا ہی نہیں بلکہ آفاقی و پیشہ ورانہ اخلاقیات کا بھی بحران ہے۔یہ دور ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی افادیت کے ترازو میں لاشیں تولنے اور گننے کا زمانہ ہے ۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مغربی میڈیا کے بارے میں کے بعد

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران