غزہ اور ایران میں لاش شماری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
لگ بھگ ڈھائی برس سے مغربی میڈیا غزہ میں ہلاک ، زخمی ، معذور اور جھلسنے والے ہر انسان کی باریک بینی سے چھان پھٹک کرتا آ رہا ہے۔ یعنی وہ سچ مچ میں انسان ہی ہیں ؟ واقعی مر گئے ؟ مر گئے تو اسرائیلی بمباری ، فائرنگ ، ٹارچر یا محاصرے کے سبب ہی مرے اور جتنے بھی مرے ان میں سے کتنوں کے بارے میں یقین کیا جائے کہ وہ جنگجو نہیں عام سے لوگ تھے وغیرہ وغیرہ ؟
تباہی کے عینی شاہد اگر مقامی فلسطینی ہیں اور انھوں نے اپنے پیاروں کو ایک کے بعد ایک مرتے بھی دیکھا ہے تب بھی کراس چیکنگ تو بنتی ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت انسانی و مادی تباہی کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کرتی ہے ان میں سے ایک ایک دعوی کی صحت کو الٹ پلٹ کر دیکھنا بھی لازم ہے۔ بھلے اقوامِ متحدہ سمیت ہر کے لیے دار بین الاقوامی تنظیم وزارتِ صحت کی جانب سے اکہتر ہزار ہلاکتوں کی محتاط گنتی کو درست ہی کیوں نہ مان لے اور چہار جانب سے یہ گواہی بھی کیوں نہ مل جائے کہ مرنے والوں کی اکثریت ( اسی فیصد ) عام شہریوں کی ہے۔ حتی کہ عالمی میڈیا ( مغربی میڈیا ) کو بمباری سے جلتے خیموں میں پگھلتے زندہ انسانوں کی ان سیکڑوں وڈیوز کی بھی تصدیق درکار ہے جن کا اوریجن ہی غزہ ہے۔
اب تو آزاد محقق بھی کہہ رہے ہیں کہ غزہ کی وزارتِ صحت نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد کے نو ماہ کے دوران جتنی ہلاکتوں کی تصدیق کی وہ اصل تعداد سے کم ازکم چالیس فیصد کم ہیں۔ گنتی میں وہ لوگ تو شامل ہی نہیں کیے گئے جو بیماری ، بھوک ، موسم کی سختی ، طبی مراکز کی جامع تباہی ، آلودہ و زہریلے پانی کے استعمال اور صحت و صفائی کے نظام کی بربادی کے سبب مرے یا جن کے ڈھانچے ملبے تلے دب گئے یا ان کے پرخچے اڑ گئے یا ٹینکوں اور فوجی بلڈوزروں تلے کچلے گئے یا آس پاس کے بھوکے جانوروں کی خوراک بن گئے۔
جون دو ہزار چوبیس میں برطانوی طبی جریدے دی لانسٹ کا اندازہ تھا کہ پہلے نو ماہ کے دوران غزہ میں جنگی و غیر جنگی اسباب ملا کے ایک لاکھ چھیاسی ہزار انسان مر چکے ہیں۔مگر دی لانسٹ جیسے ذمے دار اور موقر جریدے کی یہ رپورٹ کسی مغربی اخبار ، چینل یا ویب سائٹ کی چیختی دھاڑتی سرخی نہ بن سکی۔
سوچئے دی لانسٹ رپورٹ شائع ہونے کے بعد کے پندرہ ماہ میں دس اکتوبر دو ہزار پچیس کی جنگ بندی تک مزید کتنے مرے ہوں گے اور جنگ بندی کے بعد بھی اب تک مسلسل اسرائیلی حملوں میں مزید ساڑھے چار ہو ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ بھوک ، بیماری ، بے گھری اور سردی انسانوں کو بلاوقفہ نگل رہی ہے ۔ ؟ مگر مغربی میڈیا آج تک غزہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ’’ اسرائیلی تردید یا غیر مصدقہ ذرائع یا حماس کی وزارتِ صحت کا دعوی ‘‘ جیسے سابقے لاحقے خبر میں شامل کرنا نہیں بھولتا۔
اور پھر اسی انتہائی احتیاط پسند میڈیا کی حالیہ ایرانی ہنگاموں کی کوریج کا انداز غزہ کے برعکس ایک سو اسی ڈگری پر گھوم گیا۔
مغربی میڈیا نے ناروے سے متحرک ایرانین ہیومین رائٹس کونسل اور امریکا میں قائم ہیومین رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی ( ہرانا ) کی جانب سے ہلاکتوں کے ہر دعوی کو بنا اگر مگر فوراً تسلیم کر کے شہہ سرخیوں میں بدل دیا۔حالانکہ میڈیا کو بخوبی معلوم ہے کہ ہنگاموں کے دوران ہرانا نامی اس ادارے کی ایران کے اندر کسی طرح کی زمینی پہنچ نہیں تھی۔بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ ایران میں کسی بھی ذمے دار بین الاقوامی میڈیائی ادارے کو اٹھائیس دسمبر تا پندرہ جنوری رپورٹنگ کی کھلی چھوٹ میسر نہیں تھی۔انٹرنیٹ کا بھی مکمل بلیک آؤٹ تھا۔پھر بھی مغربی میڈیا ایران کے اندرونی و بیرونی ’’ ذرائع ‘‘ کا حوالہ دے کر دھڑلے سے بارہ ہزار سے پچیس ہزار کے درمیان ہلاکتوں کے دعوے الہامی جوش و خروش کے ساتھ شائع اور نشر کرتا رہا۔
ایک ہی طرح کے میڈیا میں دو الگ الگ خطوں کے بارے میں رپورٹنگ کے متضاد معیارات برتنے کا مطلب یہ ہے کہ جن واقعات کی رپورٹنگ کوئی مخصوص بیانیہ آگے بڑھانے میں سودمند ہے اس کے لیے خبر کی صحت پرکھنے والی کم ازکم کسوٹی سے مکمل دستبرداری بھی جائز ہے اور جس المیے سے مخصوص بیانیے کو زک پہنچے اس المئے کی اطلاعاتی ترسیل کو تصدیق کی باریک ترین چھلنی سے گذارنے کے بعد بھی سوالیہ نشان کے ساتھ پیش کیا جائے۔
جمہوری اقدار ، انسانی حقوق کے تحفظ اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک ادارتی پالیسی مسلح کارروائی کا آسان جواز فراہم کرتی ہے اور ایک اور طرح کی پالیسی ریاستی نسل کشی کی عریانی کو قانونی و اخلاقی جواز کی چادر دیتی ہے۔
اس پیمانے پر تولا جائے تو فلسطین بالخصوص غزہ کے ہلاک شدگان کے ناموں پر مشتمل ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات کے مصدقہ ریکارڈ کے بارے میں حقیقی رپورٹنگ مغربی پالیسیوں کے لیے باعثِ خفت ہے۔لہذا یہ جائز مستحق کوریج سے بھی محروم ہے۔
موازنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران میں ریاستی تشدد نہیں ہو رہا یا لوگ بڑی تعداد میں نہیں مرے یا حکومتی پالیسیوں کے مخالفوں کا کاز جھوٹا ہے۔اب تو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی کہہ رہے ہیں کہ ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
تاہم امتیازی نیوز کوریج میڈیائی گراوٹ کا ہی نہیں بلکہ آفاقی و پیشہ ورانہ اخلاقیات کا بھی بحران ہے۔یہ دور ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی افادیت کے ترازو میں لاشیں تولنے اور گننے کا زمانہ ہے ۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مغربی میڈیا کے بارے میں کے بعد
پڑھیں:
مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں سادگی کے ساتھ نکاح کرنے والے اس جوڑے نے شادی کی باقاعدہ تقریبات سے قبل اہلِ خانہ کی موجودگی میں دعائے خیر کا اہتمام کیا، جس میں دونوں خوش اور پُرجوش دکھائی دیے۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی زندگی کا نیا سفر خوشیوں کے ساتھ جاری ہے۔ چند روز قبل مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے ایک سادہ اور نجی خاندانی تقریب میں اپنے نکاح کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اب ان کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by @wbs.unfolded
مومنہ اقبال گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی ذاتی زندگی کے باعث خبروں میں رہی ہیں۔ شادی کی تیاریوں کے دوران ان کے سابق دوست ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے واقعات سامنے آئے تھے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ شادی رکوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعد ازاں معاملہ پولیس تک پہنچا اور اب یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے اپنی نئی زندگی کا آغاز خوش اسلوبی سے کیا اور حال ہی میں نجی تقریب میں نکاح کر لیا۔
اتوار کے روز جوڑے نے دعائے خیر کی ایک محدود اور خاندانی تقریب کا اہتمام کیا، جبکہ شادی کی دیگر تقریبات کا باقاعدہ آغاز پیر سے متوقع ہے۔
دعائے خیر کی تقریب میں مومنہ اقبال سنہری اور ٹی پنک (ہلکے گلابی) رنگ کے خوبصورت غرارے میں ملبوس نظر آئیں، جس پر نفیس سنہری دبکا ورک کیا گیا تھا۔ ان کا روایتی لباس اور دلکش انداز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دوسری جانب حمزہ حبیب نے ہلکے ٹی پنک رنگ کے کُرتا شلوار کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کیا، جو ان کی شخصیت پر خوب جچ رہا تھا۔
View this post on Instagram
A post shared by Momina Iqbal (@momina.iqbal)
تقریب کے دوران دونوں انتہائی خوشگوار اور پُرجوش موڈ میں دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جوڑے کو اہلِ خانہ اور قریبی عزیزوں کے ساتھ خوشی کے لمحات گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مومنہ اقبال کا میک اپ معروف بیوٹی اسٹوڈیو ’ذکیہ رقیہ سیلون‘ کی جانب سے کیا گیا، جس نے ان کی دلکش شخصیت کو مزید نکھار دیا۔
دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کی جا رہی ہیں اور مداح نومولود جوڑے کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکارہ مومنہ اقبال انٹرٹینمنٹ