ٹنڈو جام،آٹا مہنگا ہونے سے غریب عوامی شدید پریشان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت ) ٹنڈوجام میں سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی فی بوری قیمت 9 ہزار روپے سے کم کرکے 8 ہزار روپے مقرر کرنے اور فلور ملز و چکی مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کے باوجو آٹا سستا ہونے کے بجائے مزید مہنگا ہو گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری پالیسی کے مطابق سبسڈی والی گندم ملنے کے بعد آٹے کی قیمت 95 روپے یا زیادہ سے زیادہ 100 روپے فی کلو ہونی چاہیے مگر ٹنڈو جام کی مارکیٹوں میں آٹا 130 سے 140 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بعض چکی مالکان 145 روپے فی کلو تک آٹا بیچ رہے ہیں اس صورتحال نے غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ حکومت نے سستا آٹا فراہم کرنے لیے ارب روپے کی خطیر سبسڈی جاری کی کی تھی، لیکن اس کا فائدہ عوام تک پہنچنے کے بجائے فلور ملز اور چکی مالکان کی منافع خوری کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی عدم توجہ اور افسران کی ملی بھگت ہے اسی وجہ سے فلور مالکان اپنی من مانیاں کرکے شہریوں کو پریشان کر رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلے صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ عملی طور پر بازاروں میں اس کے برعکس صورتحال نظر آ رہی ہے ہوتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ اس سلسلے میں جب فلور مالکان سے رابطہ کرکے معلوم کیا تو انہوں نے اس کا الزام حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہاکہ انہیں سستی گندم بروقت فراہم نہیں کی جاتی جس کے باعث وہ مہنگے داموں گندم خریدنے پر مجبور ہیں، اس لیے یہ سستا آٹا فروخت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے حیدرآباد ڈویژن کو 6 لاکھ سستی گندم کی بوریاں فراہم کی جا چکی ہیں تو پھر آٹا مہنگا کیوں فروخت ہو رہا ہے تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے حیدرآباد ڈویژن کو6لاکھ سستی گندم کی بوریاں فراہم کی جا چکی ہیں تو پھر آٹا مہنگا کیوں فروخت ہو رہا ہے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں فلور ملز اور چکی مالکان کو مجموعی طور پر 36 لاکھ 50 ہزار گندم کی بوریاں جاری کی گئیں جن میں سے 6 لاکھ بوریاں حیدرآباد ضلع کے لیے مختص تھیں اس کے باوجود راھوکی، ٹنڈو جام شہر، ٹنڈو قیصر، موسی کھٹیان کھسانو موری اور آبڑی سمیت کئی علاقوں میں آٹا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے عوام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ایک طرف حکومت سبسڈی دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کی بوری 10 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جو حکومتی پالیسی کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے دیہی علاقوں میں رہنے والا محنت کش طبقہ مہنگے آٹے کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور کئی خاندان دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہیں شہریوں اور دکانداروں نے مشترکہ طور پر سندھ حکومت، محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلور ملز اور چکی مالکان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے، سرکاری نرخوں پر سختی سے عمل کرایا جائے اور سبسڈی کا حقیقی فائدہ غریب عوام تک پہنچایا جائے بصورت دیگر آٹے کی بڑھتی ہوئی مہنگائی عوامی احتجاج کا سبب بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلور ملز حکومت کی فروخت ہو گندم کی رہا ہے
پڑھیں:
اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔