اڈیالہ جیل کے باہر زبردست ٹک ٹاک بنتی ہے، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، وکلائے صفائی نے دو گواہان پر جرح مکمل کر لی۔
علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں، عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر ملزم عاطف ریاض کے لیے سرکاری وکیل مقرر کر دیا جو گواہان پر جرح کرے گا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے درمیان پھر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا ہے کہ پورا پاکستان پوچھ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں کیوں ہیں؟وہ اڑھائی سال سے قید تنہائی میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل سے واپسی پر پولیس نے خواتین کو گاڑیوں سے اتارا، ایک خاتون کو اکیلے ہراساں کیا گیا، یہ جو مرضی کرلیں، اللہ کے پلان کے آگے کچھ نہیں چلنے والا۔
مزید پڑھیںعمران خان کی رہائی کیلئے جو کرنا پڑا وہ کریں گے کوئی ہمیں نہیں روک سکتا، علیمہ خان
8 فروری کی کال عمران خان کی نہیں اپوزیشن اتحاد کی ہے، علیمہ خان
صحافی کے سوال پر کہ علی محمد خان نے کہا ہے کہ جو لوگ اڈیالہ جیل جاتے ہیں وہ ٹک ٹاک بنانے جاتے ہیں، علیمہ خان نے جواب دیا اڈیالہ جیل کے باہر زبردست ٹک ٹاک بنتی ہے۔
ٹک ٹاک سب سے آگے نکل گیا ہے۔ مذاکرات کی بات اب آگے نکل گئی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ کون سے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔
ادھر فیصل محمود ملک ایڈووکیٹ نے کہ جیل انتظامیہ دس دن سے بانی کے وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا رہی جس کے باعث بانی کے کیسز میں اپیلیں دائر نہیں ہوسکی ہیں، تمام سرکاری گواہ جرح میں بے نقاب ہوتے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل علیمہ خان ٹک ٹاک
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔