اتحادالمدارس الاسلامیہ کے تحت امتحانات 31جنوری سے ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر)اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان کے تحت سال 2026ء کے امتحانات 31 جنوری سے ملک بھر میں شروع ہو نگے، جن میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں سے سینکڑوں مدارس کے ہزاروں طلبہ و طالبات شرکت کر رہے ہیں۔ امتحانات کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ امتحانی عمل کو منظم اور شفاف بنانے کے لیے طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔اتحاد المدارس الاسلامیہ کے ناظم الامتحانات مفتی اکرام اللہ واحدی نے اس موقع پر بتایا کہ امتحانات کے انعقاد کے لیے ملک بھر میں متعدد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں سیکیورٹی، نگرانی اور سہولیات کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کی محنت کا صحیح انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔مفتی اکرام اللہ واحدی کا مزید کہناتھاکہ شعبہ ناظرہ اور شعبہ حفظ کے امتحانات بھی مختلف امتحانی مراکز پر الگ الگ تاریخوں میں منعقد کیے جائیں گے، جس کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ اتحاد المدارس الاسلامیہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے، جبکہ امتحانات کے نتائج شفافیت اور دیانت داری کی بنیاد پر مرتب کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک