سانحہ گل پلازا میںجانی و مالی نقصان ناقابل تلافی ہے‘سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-16
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری اور مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان سنی تحریک کے رہنمائوں نے آتشزدگی سے متاثرہ دکانداروں اور تاجر رہنمائوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ گل پلازا میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ اس سانحے میں ہونے والا جانی و مالی نقصان ناقابل تلافی ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ایسے حادثات کا پیش آنا حکومتی اور متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ ثروت اعجاز قادری نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت فوری طور پر متاثرہ تاجروں کے نقصان کا ازالہ کرے، کاروبار مکمل طور پر تباہ ہونے والے تاجروں کو مالی امداد فراہم کی جائے اور اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی بھرپور مالی معاونت کی جائے۔ زخمی افراد کے علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت لے اور ان کی مکمل صحت یابی تک بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں گل پلازا مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں تاجر بے روزگار ہو گئے ہیں اور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ اس آگ نے ناصرف دکانیں جلائیں بلکہ لاکھوں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر فوری اور عملی اقدامات نہیں کرے گی تو متاثرہ خاندانوں کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی کے موثر انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے سانحات سے قیمتی جانیں اور لوگوں کا روزگار محفوظ رہ سکے۔ پاکستان سنی تحریک کے رہنمائوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ متاثرہ تاجروں اور خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے جائز حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔