سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے زور دیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کی قومی قیادت کی بصیرت کو سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے، اور ایسے نازک حالات میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔
شور کوٹ میں وانا اور لکی مروت کے عمائدین سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے صدر کے اغواء کے بعد دنیا ایٹمی تنازعے کے سنگین خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی نے عالمی نظام میں بے پناہ تبدیلیاں پیدا کردی ہیں اور پرانے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے بکھرنے کے باعث دنیا شدید اضطراب کا شکار ہے۔
انہوں نے کہاکہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی ماحول میں پاکستان کی قومی قیادت کی بصیرت کی جانچ ہو رہی ہے، اس لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت سیاسی کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے ملک میں ہم آہنگی اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پچھلے دو صدیوں کے دوران خطے نے بادشاہت، نوآبادیاتی حکمرانی، جمہوریت اور کمیونزم جیسے متعدد سیاسی نظام دیکھے، مگر کوئی بھی انسانیت کی بھلائی اور فلاحی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ دنیا کے تمام نظام نوع انسانی کے دکھوں کا ازالہ کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام میں ناکام رہے ہیں۔
سربراہ جمعیت علما اسلام نے سائنسی ترقی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سترہویں صدی میں انسانیت کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ سائنس سب مسائل کا حل ہے، مگر حقیقت میں سائنس نے طاقت کے حصول اور خونریزی کو فروغ دیا۔
انہوں نے اسرائیل کی حالیہ غزہ کارروائی کے حوالے سے کہا کہ کیمائی ہتھیاروں کے استعمال سے 80 ہزار سے زیادہ شہری شہید ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس نے انسانیت کو خطرے کے دہانے پر پہنچا دیا۔
انہوں نے مغربی معاشروں کی تنہائی، خاندانی نظام کی بربادی اور انسانی زندگی کے مقصد کے بحران کی بھی نشاندہی کی، اور کہا کہ مغربی معاشرہ اداسی، مایوسی اور تنہائی کا شکار ہے، جبکہ فلسفی زندگی کے مقصد کو دوبارہ تلاش کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سبق سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے اہل دانش، سیاستدان، بیوروکریٹس اور عسکری قیادت پر زور دیا کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق ایک مضبوط شورائی نظام قائم کرنے کے لیے مکالمہ شروع کریں، جس کے ذریعے عوامی حقوق محفوظ ہوں اور حکمران عوام کے سامنے جوابدہ بنیں، تاکہ ایک منظم اور فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تجویز سربراہ جے یو آئی سیاسی اختلافات قومی قیادت مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تجویز سربراہ جے یو ا ئی سیاسی اختلافات قومی قیادت مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان نے نے کہاکہ انہوں نے کو فروغ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔