مودی دور میں متنازعہ قوانین، جبر کا نظام نافذہے، ڈی ڈبلیو رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
نئی دہلی:(ویب ڈیسک) نام نہاد سیکولر بھارت مودی راج میں آمرانہ پالیسیوں کی زد میں آ چکا ہے جہاں بھارتی سرکار کی جانب سے اظہارِ رائے کی آزادی سلب کرنے سے لے کر مسلمانوں کو ہندوتوا نظریے کی بھینٹ چڑھانا معمول بنتا جا رہا ہے۔
عالمی جریدے ڈی ڈبلیو نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کو بھارتی عوام کے لیے خطرناک قانون قرار دیا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق اس قانون کے تحت بغیر مقدمہ شہریوں کو برسوں تک قید میں رکھنا معمول بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام گزشتہ پانچ برس سے بغیر مقدمہ جیل میں قید ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئی ہیں۔
بھارتی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات کے مطابق دہلی فسادات کے 18 ملزمان میں سے 16 مسلمان قرار دیے گئے، جبکہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رہنما آزاد گھوم رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو نے انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ قانون پوٹا (پریونشن آف ٹیررازم ایکٹ) کے منظم غلط استعمال کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ آکار پٹیل نے بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کی مبہم شقوں پر سخت تنقید کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد قومی سلامتی کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی ظلم تاحال جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت متنازعہ قوانین کو اقلیتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ مودی کو عوامی تحفظ کے نام پر شہری آزادیوں کو کچلنے کا اختیار کس نے دیا؟ ان کے مطابق مودی کا جبر صرف اندرونی سطح تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے بھی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔