Express News:
2026-07-24@03:32:47 GMT

غیر قانونی افغان پناہ گزین سکیورٹی چیلنج بن گئے، ترکیہ کی رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

مختلف ممالک میں افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے، جنہیں میزبان ممالک کی جانب سے ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی اور امیگریشن چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی اور ایران کے بعد اب ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے شہر شانلی عرفا میں مزید 14 غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین کو غیر قانونی نقل و حمل میں مدد فراہم کرنے والے تین سہولت کاروں کو بھی حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق گرفتار افغان باشندے ایک ٹرک میں چھپ کر غیر قانونی طور پر سفر کر رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد تمام پناہ گزینوں کو فوری طور پر ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

طالبان حکومت دو واضح دھڑوں میں تقسیم، بی بی سی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

طالبان رجیم سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار، دنیا افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے گریزاں

اس سے قبل 3 جنوری کو دیاربکر سے 32 جبکہ 10 جنوری کو توکات اور بولو سے مزید 18 غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکیہ کی مائیگریشن ایجنسی کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر سے 1 لاکھ 52 ہزار غیر قانونی پناہ گزین گرفتار کیے گئے، جن میں افغان باشندے سرِفہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں 42 ہزار افغان شہری شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کے رجحان کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث اس صورتحال میں فوری بہتری کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غیر قانونی افغان کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق