Express News:
2026-06-02@22:32:56 GMT

غیر قانونی افغان پناہ گزین سکیورٹی چیلنج بن گئے، ترکیہ کی رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

مختلف ممالک میں افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے، جنہیں میزبان ممالک کی جانب سے ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی اور امیگریشن چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی اور ایران کے بعد اب ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے شہر شانلی عرفا میں مزید 14 غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین کو غیر قانونی نقل و حمل میں مدد فراہم کرنے والے تین سہولت کاروں کو بھی حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق گرفتار افغان باشندے ایک ٹرک میں چھپ کر غیر قانونی طور پر سفر کر رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد تمام پناہ گزینوں کو فوری طور پر ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

طالبان حکومت دو واضح دھڑوں میں تقسیم، بی بی سی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

طالبان رجیم سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار، دنیا افغان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے گریزاں

اس سے قبل 3 جنوری کو دیاربکر سے 32 جبکہ 10 جنوری کو توکات اور بولو سے مزید 18 غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ترکیہ کی مائیگریشن ایجنسی کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر سے 1 لاکھ 52 ہزار غیر قانونی پناہ گزین گرفتار کیے گئے، جن میں افغان باشندے سرِفہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں 42 ہزار افغان شہری شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کے رجحان کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث اس صورتحال میں فوری بہتری کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غیر قانونی افغان کے مطابق گیا ہے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے