data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے وفاقی وزارت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی چوہدری سالک حسین اور حج ڈپارٹمنٹ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں مستقل حج اسٹیشن کے قیام کا وعدہ فوری طور پر پورا کیا جائے، کیونکہ حج 2026 کی تیاریاں قریب ہیں مگر زمینی سطح پر تاحال کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے متعدد بار وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، وزارت حج، ڈائریکٹر حج کراچی، کمشنر حیدرآباد ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو باضابطہ خطوط تحریر کیے اور اخباری بیانات کے ذریعے حیدرآباد میں مستقل حج آفس اور ویکسی نیشن سہولت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حج 2025 کے دوران حکومت کی جانب سے مستقل حج اسٹیشن کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اُس وقت صرف عارضی طور پر مہران آرٹس کونسل، لطیف آباد میں حج ٹریننگ اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جسے مستقل حج اسٹیشن کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چیمبر کی مسلسل جدوجہد کے باوجود آج تک مستقل حج اسٹیشن کے قیام کے لیے نہ کوئی جگہ مختص کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی عملی پیش رفت سامنے آئی ہے۔احمد ادریس چوہان نے کہا کہ حیدرآباد ضلع اور اس کے مضافات بشمول مٹیاری، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان، بدین، سجاول، ٹھٹھہ، جامشورو اور دادو سے ہر سال ہزاروں عازمین حج روانہ ہوتے ہیں، مگر گزشتہ کئی برسوں سے ویکسی نیشن، پاسپورٹ پروسیسنگ، ٹریننگ اور دیگر حج سہولیات کے لیے شہریوں کو کراچی جانا پڑتا ہے جس سے وقت، پیسہ اور وسائل کا غیر ضروری ضیاع ہوتا ہے، بالخصوص بزرگ، خواتین اور کمزور طبقات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں آج تک مستقل حج اسٹیشن قائم نہیں کیا جا سکا، جبکہ صوبے کے نسبتاً چھوٹے شہروں جیسے سکھر میں یہ سہولت دستیاب ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ سرکاری وعدوں کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔قائم مقام صدر نے کہا کہ حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عازمین کو اُن کے اپنے شہر میں مکمل سہولیات فراہم کرے۔ مستقل حج اسٹیشن کا قیام صرف عازمین کے لیے نہیں بلکہ پورے حیدرآباد ریجن کے لیے ایک اجتماعی ضرورت بن چکا ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔احمد ادریس چوہان نے وفاقی حکومت، وزارت مذہبی امور، حج ڈپارٹمنٹ اور صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق حج 2026 سے قبل حیدرآباد میں مستقل حج اسٹیشن کے قیام کا باضابطہ اعلان کریں، فوری طور پر زمین یا عمارت مختص کریں اور اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز کریں۔

کامرس ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مستقل حج اسٹیشن کے قیام حج اسٹیشن کے قیام کا ادریس چوہان نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف