پاکستان چاول برآمدکرنے والا دنیاکا تیسرا بڑا ملک بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان زرعی برآمدات میں استحکام اور تیز رفتار ترقی کے ساتھ عالمی قیادت کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ بین الاقوامی جریدہ گلف نیوز نے بھی پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی پر مہر ثبت کر دی۔ سال 2026ء کے آغاز پر پاکستان ایک اور اعزاز کے ساتھ دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ ملک بن گیا، دسمبر 2025 ء میں پاکستانی چاولوں کی برآمدات نے 14 فیصد ماہانہ اضافہ ریکارڈ کر کے عالمی منڈی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافے نے پاکستان کی برآمدی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، دسمبر 2025 میں پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول عالمی منڈیوں میں برآمد کیے، جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں۔ شاندار کارکردگی کے بعد پاکستان نے ویتنام پر سبقت حاصل کر کے عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی، پاکستان سے سب سے زیادہ چاول متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمد کیا گیا۔ پاکستانی باسمتی چاول کے عالمی معیار اور مسابقتی قیمتوں نے بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔ برآمدات میں مسلسل اضافہ زرعی شعبے میں مؤثر اصلاحات، عالمی منڈیوں کے بڑھتے اعتماد اور قومی معیشت کی پائیدار سمت کا واضح مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔